August 26, 2008 at 4:15 pm
· Filed under احمد فراز, شاعری ·Tagged Ahmad Farza, Poetry, Urdu, احمد فراز
کٹھن ہے راہ گزر تھوڑي دور ساتھ چلو
بہت کڑا ہے سفر تھوڑي دور ساتھ چلو
تمام عمر کہاں کوئي ساتھ ديتا ہے
يہ جانتا ہوں مگر تھوڑي دور ساتھ چلو
نشے ميں چور ہوں ميں بھي تمہيں ہوش نہيں
بڑا مزہ ہو اگر تھوڑي دور ساتھ چلو
يہ ايک شب کي ملاقات بھي غنيمت ہے
کسے ہےکل کي خبر تھوڑي دور ساتھ چلو
ابھي تو جاگ رہے ہيں چراغ راہوں کے
ابھي ہے دور سحر تھوڑي دور ساتھ چلو
طواف منزل جاناں ہميں بھي کرنا ہے
فراز تم بھي اگر تھوڑي دور ساتھ چلو
۔۔۔ احمد فراز ۔۔۔
Permalink
August 26, 2008 at 4:00 pm
· Filed under احمد فراز, شاعری ·Tagged Ahmad-faraz, Poetry, Urdu
خواب مرتے نہیں
خواب دل ہیں نہ آنکھیں
نہ سانسیں کہ جو
ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے
جسم کی موت سے بھی یہ نہ مر جائیں گے
خواب مرتے نہیں
خواب تو روشنی ہیں
نوا ہیں
ہوا ہیں
جو کالے پہاڑوں سے رکتے نہیں
ظلم کے دوزخوں سے پُھکتے نہیں
روشنی اور نوا اور ہوا کے عَلَم
مقتلوں میں پہنچ کر بھی جھکتے نہیں
خواب تو حرف ہیں
خواب تو نور ہیں
خواب تو منصور ہیں
خواب مرتے نہیں
احمد فراز
Permalink
August 26, 2008 at 3:32 pm
· Filed under احمد فراز, شاعری ·Tagged Ahmad-faraz, Poetry, Urdu, احمد فراز
کٹھن ہے راہ گزر تھوڑي دور ساتھ چلو
بہت کڑا ہے سفر تھوڑي دور ساتھ چلو
تمام عمر کہاں کوئي ساتھ ديتا ہے
يہ جانتا ہوں مگر تھوڑي دور ساتھ چلو
نشے ميں چور ہوں ميں بھي تمہيں ہوش نہيں
بڑا مزہ ہو اگر تھوڑي دور ساتھ چلو
يہ ايک شب کي ملاقات بھي غنيمت ہے
کسے ہےکل کي خبر تھوڑي دور ساتھ چلو
ابھي تو جاگ رہے ہيں چراغ راہوں کے
ابھي ہے دور سحر تھوڑي دور ساتھ چلو
طواف منزل جاناں ہميں بھي کرنا ہے
فراز تم بھي اگر تھوڑي دور ساتھ چلو
۔۔۔ احمد فراز ۔۔۔
Permalink
August 14, 2008 at 12:00 am
· Filed under شاعری, محسن نقوی
آؤ وعدہ کریں
آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم
دیدہِ دل کی بے انت شاہی میں ہم
زیرِ دامانِ تقدیسِ لوح و قلم
اپنے خوابوں، خیالوں کی جاگیر کو
فکر کے موءقلم سے تراشی ہوئی
اپنی شفاف سوچوں کی تصویر کو
اپنے بے حرف ہاتھوں کی تحریر کو، اپنی تقدیر کو
یوں سنبھالیں گے، مثلِ چراغِ حرم
جیسے آندھی میں بے گھر مسافر کوئی
بجھتی آنکھوں کے بوسیدہ فانوس میں
پہرہ داروں کی صورت چھپائے رکھے
جانے والوں کے دھندلے سے نقشِ قدم
آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم – پھر ارادہ کریں
جتنی یادوں کے خاکے نمایاں نہیں
جتنے ہونٹوں کے یاقوت بے آب ہیں
جتنی آنکھوں کے نیلم فروزاں نہیں
جتنے چہروں کے مرجان زرداب ہیں
جتنی سوچیں بھی مشعلِ بداماں نہیں
جتنے گل رنگ مہتاب گہناگئے – جتنے معصوم رخسار
مرجھا گئے
جتنی شمعیں بجھیں ، جتنی شاخیں جلیں
سب کو خوشبو بھری زندگی بخش دیں، تازگی بخش دیں
بھر دیں سب کی رگوں میں لہو نم بہ نم
مثلِ ابرِ کرم رکھ لیں سب کا بھرم
دیدہ و دل کی بے انت شاہی میں ہم
زخم کھائیں گے حسنِ چمن کے لئیے
اشک مہکائیں گے مثلِ رخسارِ گل
صرف آرائشِ پیرہن کے لئیے، مسکرائیں گے رنج و غم
دہر میں
اپنی ہنستی ہوئی انجمن کے لئیے
طعنِ احباب، سرمایہ کج دل، بجز اغیار سہہ لیں گے
فن کے لئیے
آؤ وعدہ کریں
سانس لیں گے متاعِ سخن کے لئیے
جان گنوائیں گے ارضِ وطن کے لیے
دیدہ و دل کی شوریدگی کی قسم
آسمانوں سے اونچا رکھیں گے عَلم
آؤ وعدہ کریں
آج کے دن کی روشن گواہی میں ہم
۔۔۔ محسن نقوی ۔۔۔
Permalink
August 7, 2008 at 9:21 am
· Filed under شوکت تھانوي, مزاح
آغا کليم اختر
صديوں سے آپ کا خاندان پٹيالہ ميں اور بھٹنڈے کے درمياني علاقے ميں رھتا تھا،آپ کے بزرگوں ميں سے کوئي بھي دريائے سندہ کے پار نہيں گيا، پھر بھي آپ نے ديک لخت امير ھوجانے پر اپنے نام کے ساتھ آغا لگايا۔
آپ کاجنرل نالچبے حد وسيع ھے، محلے کا کوئي غير اھم، واقعہ ايسا نہیں جو آپ کو معلوم نہ ھو، شہر کي کوئي اونٹ پٹانگ بات آپ سے پوشيدھ نہیں۔آپ جانتے ہيں کہ دعوتوں ميں چوھدري صاحب سے لوگ متاثر محض اس لئے ھوتے ھيں کيونکہ موصوف بالکل خاموش رھتے تھے، اور يہ کہ خواجہ جو اتنے موٹے ھيں اور ھر وقت بھوک اڑجانے کي شکايت ميں مبتلا رھتے ھيں کہ وھ سوائے ناشتے لنچ اور ڈنر کے کچھ بھي تو نہيں کھاتے، آپ کو يہ بھي پتہ ھے کہ پڑوسيوں کے ہاں شور مچنا بند کيوں ھوگيا ھے اور شيخ صاحب خواھ مخواہ خوش اس لئےرھنے لگے ھيں کہ قنوطي لوگوں سے ادھار لينا شروع کر ديا ھے، کيونکہ سب جانتے ھيں کہ قنوطي کو قرض واپسي کي اميد ھي نہيں ھوتي۔
آپ کو خان صاحب کے استعفے نہ دينے کي اصل وجہ معلوم ھے، وھ يہ کہ خان صاحب کہيں ملازم ھي نہيں تھے اور يہ کہ شاھ صاحب اتنے کنجوس ھيں کہ جب تندرست ھوئے اور ڈاکڑ نےپچيس روپے في وزيٹ کے حساب سے دو سو پچاس کا بل بہيجا تو آپ نے واپس کرديا اور لکھ کہ دس کي جگہ ميں آپ کو پندرھ مرتبہ وزيٹ کروں گا۔کسي نے آپ کي فواہ پر دري اعتراض کيا تو کہنے لگے کہ يہ تو مشرقي ممالک کا محبوب مشغلہ ھے۔١٩٤٦ ميں آپ نے انکشاف کيا کہ شيخ صاحب کا کنبہ خاصا دلچسپ ھے ، شيخ صاحب کا پرانا نام ڈيوڈ فتومل اور ان کے سالے کا نام رابرٹ طوطا رام تھا ، مالي حالات بہتر ھونے پر دونوں علي الترتيب فتح حسين اور تيرتھ سين بن گئے ايک نے مارگيٹ کماري سے شادي کي اور دوسرے نے کسي اور سے۔مالي حالات اور سدھري تو آپ فتح ايس شيخ کہلاتے۔۔۔۔۔۔۔۔وغيرہ وغيرہ اس خبر پر سب خوش ھوئے ليکن شيخ صاحب نے جنہيں اپنے اصلي شيخ ھونے پر بڑا فخر ھے، بے حد خفا ھو کر بيان ديا۔۔۔۔۔کہ اب وھ نہ آغا ديکھيں گے اور نہ پيچھا، فورا ھتک عزت کا دعوي کريں گے۔ليکن اس کا نتيجہ حسب معمول کچھ نہ نکلا، بلکہ کئي برسوں تک پيشيوں پر اس قدر خرچ ھو اکہ تنگ آکر صلحہ کرني پڑي۔
اس سال آپ بڑي سفارشوں کے بعد مقامي پريس کلب کے ممبر بننے ، ليکن چند ھفتوں کے بعد ديگر ممبروں نے اعتراض کيا کہ آپ سہ پہر سے آدھي رات تک کلب ميں رھتے ھيں مگر ايک پائي خرچ نہيں کرتے، غالبا آپ بار پر جانے والوں کو گننے اور رقص ميں شامل ھونے والوں کو جھانکنے کے لئے ممبر بنے تھے۔
Permalink
July 31, 2008 at 9:22 am
· Filed under مزاح, ڈاکٹر محمد يونس بٹ
سياست اور محبت ميں جو کرتے ہيں وہ جائز ہوتا ہے، صرف وہ ناجائز ہوتا ہے جو دوسرے کرتے ہيں، پہلے سياستدان کرپٹ ہوتے تھے، آج کل کرپٹ سياستدان ہوگئے ہيں، رامے خود کو اس سياست کا باغي کہتے ہيں، انہيں مل کر باغي سے مراد باغ ميں آنے جانے والا ہي ليا جاسکتا ہے، کہتے ہيں ميں مڈل کلاس سےہوں، ہم نے سنا ہے، مڈل کلاس سے تو غلام حيدر وائيں صاحب تھے، رامے تو ايم اے ہيں، اگر وہ يہ کہتے ہيں کہ ميں مڈل کلاس کي نمائندگي کي ہے تو يہ کوئي بڑي بات نہيں، ہم خود مڈل کلاس کي نمائندگي کرچکے ہيں، مڈل کلاس ميں ہم مانيٹر تھے۔
1957 ميں نصرت نکالا، بعد ميں نصرت پيپلز پارٹي کا ترجمان بنا، اب تو نصرت پيپلز پارٹي کي ترجمان ہے، بھٹو دور ميں رسالے نصرت پر اپنے نام سے پہلے طابع لکھتے مگر اسے تابع پڑھتے، سولہ ماہ وزيراعلي ہائوس ميں سولہ ماہ شاہي قلعے ميں قيد رہے، لون ان سے اتني محبت کرتے ہيں کہ جب وہ وزير اعلي تھے تو لوگ وزيراعلي ہائوس کے سامنے جا کر کہتے وزيراعلي کو رہا کرو، ليکن يہ آج تک يہي سمجھتے ہيں کہ عوام کہتے تھے، وزير اعلي رہا کرو، آج بھي نام کے ساتھ وزيراعلي يوں لکھتے ہيں جيسے ڈاکٹر اپنے نام کے ساتھ ايم بي بي ايس لکھتے ہيں۔
روزنامہ مساوات سے نکل کر مساوات پارٹي بنائي، دونوں ميں يہ فرق تھا کہ روزنامہ مساوات ميں کارکن زيادہ تھے، پارٹي کا اس قدر خيال رکھتے کہ جب کہيں باہر جاتے تو ہمسائيوں کو کہہ کر جاتے کہ اس کا خيال رکھان آکر لے لوں گا، ريٹرن ٹکٹ پر سفر کرتے ہيں، وہ تو اليکشن ميں بھي ريٹرن ٹکٹ پر ہي Suffer کرتے ہيں۔
مصوري فطرت کي عکاسي ہوتي ہے، جي ہاں مصور کي فطرت کي، پينٹنگ ديکھنےکا اصول يہ ہے کہ خود نہ بولو پينٹنگ بولنے دو، رامے صاحب نے تجريدي مصوري کو بہت توجہ دي، ويسے بھي تجريدي مصوري اتني تو توجہ مانگتي ہے کہ مصور کا ذرا دھينا ادھر ادھر ہوجائے تو بھول جاتا ہے، کہ کيا بنا رہا تھا، سکھوں کے شہر ميں پيدا ہوئے مگر اپني گفتگو سے اس کا پتہ نہيں چلنے ديا، ان کي تصويروں سے پتہ چلتا ہے کہ بدصورتي کو بڑي خوبصورتي سے پينٹ کرتے ہيں، مصوري ميں وہ پکاسو کي بيوہ ہيں، کسي تصوير کو کپڑے پہنا ديں تو اس کا طرف يوں ديکھيں گے جيسے کوئي سخي کسي ننگے کو لباس پہنانے کے بعد ديکھتا ہے، بچپن ميں ٹريس کرکے تصويريں بناتے اور مار کھاتے، ہماے تو ايک جاننے والے مصور نے ٹريس کرکے تصوير بناتے ہوئے بيوي سے مار کھائي کيونکہ وہ ايک ماڈل سے تصوير ٹريس کررہے تھے۔
— ڈاکٹر محمد يونس بٹ —
Permalink
April 11, 2008 at 12:14 pm
· Filed under ادب
Permalink
November 12, 2007 at 1:49 pm
· Filed under ادب
Permalink
Older Posts »