.flickr-photo { border: solid 2px #000000; }
.flickr-yourcomment { }
.flickr-frame { text-align: left; padding: 3px; }
.flickr-caption { font-size: 0.8em; margin-top: 0px; }

Comments

untitled, originally uploaded by saima rasheed (sayyam).

 

Comments

خواب مرتے نہیں

خواب مرتے نہیں


خواب دل ہیں نہ آنکھیں

 

نہ سانسیں کہ جو

 

ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے

 

جسم کی موت سے بھی یہ نہ مر جائیں گے

 

خواب مرتے نہیں

 

خواب تو روشنی ہیں

 

نوا ہیں

 

ہوا ہیں

 

جو کالے پہاڑوں سے رکتے نہیں

 

ظلم کے دوزخوں سے پُھکتے نہیں

 

روشنی اور نوا اور ہوا کے عَلَم

 

مقتلوں میں پہنچ کر بھی جھکتے نہیں

 

خواب تو حرف ہیں

 

خواب تو نور ہیں

 

خواب تو منصور ہیں


خواب مرتے نہیں

 

 

احمد فراز

Comments (1)

اپنے آپ کو مت پہچانو

حکماء کا اصرار ہے کہ اپنے آپ کو پہچانو لیکن تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ اپنے آپ کو مت پہچانو، ورنہ سخت مایوسی ہوگی۔

 

ایمرسن صاحب فرماتے ہیں انسان جو کچھ سوچتا ہے وہی بنتا ہے۔ کچھ بننا کس قدر آسان ہے، کچھ سوچنا شروع کردو اور بن جاؤ۔

 

اگر نہ بن سکو تو ایمرسن صاحب سے پوچھو۔

 

 

 

۔۔ شفیق الرحمٰن کی کتاب مزید حماقتیں سے ایک اقتباس ۔۔

Comments (2)

ھمتِ التجا نہیں باقی

ھمتِ التجا نہیں باقی

 

ضبط کا حوصلہ نہیں باقی

 

اک تری دید چھن گئ مجھ سے

 

ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی

 

اپنے مشقِ ستم سے ہاتھ نہ کھیںچ

 

میں نہیں یا وفا نہیں باقی

 

ترے چشمِ عالم نواز کی خیر

 

دل میں کوئئ گلہ نہیں باقی

 

ہو چکا ختم عہدِ ہجر و وصال

زندگی میں مزا نہیں باقی

Comments (3)

زندگی کی راہوں میں

زندگی کی راہوں میں

 

بار ہا یہ دیکھا ہے

 

صرف سُن نہیں رکھا

 

خود بھی آزمایا ہے

 

جو بھی پڑھتے آئے ہیں

 

اسکو ٹھیک پایا ہے

 

اسطرح کی باتوں میں

 

منزلوں سے پہلے ہی

 

ساتھ چھوٹ جاتے ہیں

 

لوگ روٹھ جاتے ہیں

 

یہ تمہیں بتا دوں میں

 

چاہتوں کے رشتوں میں

 

پھر گرہ نہیں لگتی

 

لگ بھی جائے تو اُس میں

 

وہ کشش نہیں رہتی

 

ایک پھیکا پھیکا سا رابطہ تو رہتا ہے

 

تازگی نہیں رہتی

 

۔۔۔ روح کے تعلق میں

زندگی نہیں رہتی ۔۔۔

 

بات پھر نہیں بنتی

 

لاکھ بار مل کر بھی

 

دل کبھی نہیں ملتے!

 

ذہن کے جھروکوں میں

 

سوچ کے دریچوں میں

 

تتلیوں کے رنگوں میں

 

پھول پھر نہیں کھلتے!

 

اس لئیے میں کہتا ہوں

 

اس طرح کی باتوں میں

 

احتیاط کرتے ہیں

 

اسطرح کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں!

 

(محسن نظامی)

Comments

ہوائے شام کے رنگیں دیار جلنے لگے

ہوائے شام کے رنگیں دیار جلنے لگے
ہوئی جو شام تو جھکّڑ عجیب چلنے لگے
تھی شام زہر رنگ میں ڈوبی ہوئی کھڑی
پھر اک ذرا سی دیر میں منظر بدل گیا
یاد بھی ہیں اے منیر اس شام کی تنہائیاں
ایک میداں اک درخت اور تو خدا کے سامنے
شفق کا رنگ جھلکتا تھا لال شیشوں میں
تمام اجڑا مکاں شام کی پناہ میں تھا
شام کے رنگوں میں رکھ کر صاف پانی کا گلاس
آبِ سادہ کو حریف رنگِ بادہ کردیا

Comments

کتے

 

 

یہ گلیوں کے آوارہ بےکار کُتے

 

کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی

 

زمانے کی پھٹکار سرمایہ اُن کا

 

جہاں بھر کی دھتکار ، ان کی کمائی

 

 

نہ آرام شب کو، نہ راحت سویرے

 

غلاظت میں گھر، نالیوں میں بسیرے

 

جو بِگڑیں تو اک دوسرے سے لڑا دو

 

ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو

 

یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے والے

 

یہ فاقوں سے اکتا کے مر جانے والے

 

 

یہ مظلوم مخلوق گر سر اٹھائے

 

تو انسان سب سرکشی بھول جائے

 

یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنا لیں

 

یہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبا لیں

 

کوئی ان کو احساسِ ذلت دلا دے

 

کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلا دے

 

 

۔۔۔ فیض احمد فیض ۔۔۔

 

 

آج کل کے حالات اور لوگوں پہ کچھ ٹھیک ٹھیک نہیں بیٹھتی یہ نظم ؟؟

 

 

Comments (6)

« Previous entries