Archive for December, 2005

يہ جو لمحے گلاب جيسے ہيں

يہ جو لمحے گلاب جيسے ہيں
آ کہ تجھ بن عذاب جيسے ہيں

تو نہيں ہے تو ايسا لگتا ہے
سارے منظر سراب جيسے ہيں

يہ جو سپنے ادھر نہيں آتے
ميرے خط کے جواب جيسے ہيں

پاس جائيں تو ہم پہ کھلتا ہے
لوگ سارے سراب جيسے ہيں

گيت ناہيد کيا سناؤں ميں
سٔر سبھي اضطراب جيسے ہيں

ناہِيد ورک

Comments (1)

بھول ہوئی ہے

برگشتہء یزدان سے کچھ بھول ہوئی ہے
بھٹکے ہوۓ انسان سے کچھ بھول ہوئی ہے

تاحدِ نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن ميں
پھولوں کے نگہبان سے کچھ بھول ہوئی ہے

جس عہد میں لٹ جاۓ فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

حوروں کی طلب اور مہ و ساغر سے ہے نفرت
زاہد تیرے عرفان سے کچھ بھول ہوئی ہے

ساغر صدیقی

Leave a Comment

کب ياد ميں

کب ياد ميں تيرا ساتھ نہيں، کب بات ميں تري بات نہيں
صد شکر کہ اپني راتوں ميں اب ہجر کي کوئي رات نہيں

مشکل ہيں اگر حالات وہاں، دل بيچ آئيں جان دے آئيں
دل والوں کوچہ جاناں ميں کيا ايسے بھي حالات نہيں

جس دھج سے کوئي مقتل ميں گيا، وہ شان سلامت رہتي ہے
يہ جان تو آني جاني ہے، اس کي تو کوئي بات نہيں

ميدان وفا دربار نہیں، ياں نام و نسب کي پوچھ کہاں
عاشق تو کسي کا نام، کچھ عشق کسي کي ذات نہيں

گربازي عشق کي بازي ہے، جو چاہو لگا دو ڈر کيسا
گر جيت گئےتو کيا کہنا، ہارے بھي بازي مات نہيں

فيض احمد فيض کی ایک شاندار غزل

Comments (4)

پہاڑ

ان پہاڑوں کو ديکھوں ،بعضوں کي چوٹياں آسمان سے باتيں کرتي ہيں۔ کيا باتيں کرتي ہيں؟ يہ کسي نے نہيں سنا۔پہاڑوں کے اندر کيا ہوتا ہے؟ معلوم نہيں ۔بعض اوقات پہاڑ کو کھودو تو اندر سے چوہا نکلتا ہے۔بعض اوقات چوہا بھي نہيں نکلتا ۔جس پہاڑ ميں سے چوہا نکلے اسے غنيمت جاننا چاہئيے۔

جو لوگ پہاڑوں پر رہتے ہيں ان کو گرم کپڑے تو ضرور بنوائے پڑتے ہيں ليکن ويسے کئي فائدے بھي ہيں ۔پہاڑوں پر برف جمي ہے جو ان لوگوں کو مفت مل جاتي ہے۔جتنا جي چاہے پاني ميں ڈال کر پيئيں ۔برف ميں رہنے والوں کو ريفريجريٹر بھي نہيں خريدنے پڑتے پيسے بچتے ہيں۔

پہاڑ پتھروں کےبنے ہوتے ہيں۔ پتھر بہت سخت ہوتے ہيں ۔جس طرح محبوبوں کے دل سخت ہوتے ہيں ۔فرق يہ ہے کہ کبھي کبھي پتھر موم بھي ہو جاتے ہيں۔جو پہاڑ بہت بلندي دکھاتے ہيں ان کو کاٹتے ہيں اور کاٹ کر ان کے پتھر سڑکوں پر بچھاتے ہيں لوگ انہيں جوتوں سے پامال کرتے گزرتے ہيں ۔ جو پتھر زيادہ سختي دکھائيں وھ چکي ميں پستے ہيں ۔ سرمہ بن جاتے ہيں ۔سارا پتھر پن بھول جاتے ہيں۔

۔۔۔کون ہو سکتا ہے ۔۔۔ابن انشاء ۔۔۔ کے علاوہ ۔۔۔

Leave a Comment

اس سے پہلے کہ بے وفا ہوجائيں

اس سے پہلے کہ بے وفا ہوجائيں
کيوں نہ اے دوست ہم جدا ہو جائيں

تو بھي ہيرے سے بن گيا پتھر
ہم بھي جانے کيا ہو جائيں

تو کہ يکتا بے شمار ہوا
ہم بھي ٹوٹيں تو جا بجا ہوجائيں

ہم بھي مجبوريوں کا عذر کريں
پھر کہيں اور مبتلا ہو جائيں

ہم اگر منزليں نہ بن پائے
منزلوں تک کا راستہ ہو جائيں

دير سے سوچ ميں ہيں پروانے
راکھ ہو جائيں يا ہوا ہوجائيں

اب کے گر تو ملے تو ہم تجھ سے
ايسے لپٹيں کہ قبا ہو جائيں

بندگي ہم نے چھوڑ دي فراز
کيا کريں جب لوگ خدا ہوجائيں

احمد فراز

Leave a Comment

کراچي سے ہيتھرو تک

يہ صورت اس وقت پيدا ہوتي ہے جب چھوٹي کار تيز اور بڑي کار کو آھستہ چلايا جائے بخش کے پاس بڑي کار ہے۔ مگر نہ وہ اسے آہستہ چلاتے ہيں اور نہ تيز چلاتے ہيں بس يہ ہے کہ جب بريک پر پاؤں رکھنا ہو بخش صاحب ايکسيليٹر پر پاؤں رکھ ديتے ہيں اور جب پاؤں ايکسيليٹر پر ھونا چائيے اس وقت بخش صاحب کا پاؤں بريک پر ہوتا ہے۔

تاہم بخش صاحب کا کمال فن يہ ہے کہ ان کا آج تک چالان نہيں ہوا جيسے آج تک ہمارے ملک کے صاحبان اقتدار کا کبھي چالان نہيں ہو سکا جو ملک اسي طرح چلاتے ہيں۔ جس طرح بخش لائل پوري کار چلاتے ہيں۔لندن کي پراني طرز کي سياہ عمارتوں اور تنگ گلي کوچوں سے گزرتے ہوئے اب ھم ٣٣٧ ميٹر روڈ ويٹ بانسلو کے سامنے کھڑے تھے ۔يہ گھر مجھے بہت عزيز ھے ۔ ميں نے گذشتہ برس بھي اس گھر میں دو ہفتے گذارے تھے ۔ سويٹي بيٹي، فرحانہ بيٹي ، شاہد ، شفقت ، بھابي شميم اور مور اوور کے طور پر بخش لائل پوري کي پر خلوص مہمانداري کے طفيل مجھے اپنے گھر سے ہزاروں ميل دور يہ گھر اپنا سا لگتا ہے۔

جاری ہے ۔۔۔ یہ میں کہہ رہی ہوں قاسمی صاحب نہیں-اسماء

۔۔۔ عطاء الحق قاسمي ۔۔ گوروں کے ديس ميں ۔۔۔

Leave a Comment

ایک محبت ایک افسانہ

اکثر ایسے بھی ہوا کہ تم نے اپنی پسند پر میری مرضی کو قربان کردیا اور میں نے پتہ نہیں کیوں قربان ہونے دیا۔ میں بالوں میں ٹیڑھی مانگ نکالتا تھا لیکن تم نے کہا “مجھے درمیان میں پسند ہے”۔ میں نے کنگھی تمہارے آگے بڑھادی تو تم نے کہا “میں خود نہیں نکالوں گی۔” پھر میری مانگ خودبخود سیدھی نکلنے لگی۔ پر ان بالوں کو حسرت ہی رہی کہ کبھی تمہارے ہاتھوں سے منت پزیر شانہ ہوتے۔

ایک بار جب میں کرائے کی سائیکل لے کر سارا دن ادھر ادھر گھومتا رہا تھا اور شام کو دکان بند ہوگئی تھی اور میں سائیکل لے کر گھر آگیا تھا تو رات کو کھلی ہوئی چاندنی دیکھ کر تمہارا جی چرایا۔ تم سائیکل برآمدے سے باہر گلی میں نکال لے گئیں لیکن چلاتا کون! اس وقت اگر میں نہ ہوتا تو پتہ نہیں تم کتنی دیر ایسے ہی کھڑی رہتیں۔ پھر میں نے ہی تمہیں آگے بٹھا کر گلی کے اس سرے تک سیر کروائی لیکن اونچے نیچے گڑھوں والی زمین پر سائیکل اچھلتی رہی اور میری ٹھوڑی تمہارے سر سے ٹکراتی رہی اور واپسی پر جب میں نے یہ رائے دی کہ دکانوں کی قطار کا چکر کاٹ کر اپنے گھر کے پچھواڑے جا اتریں گے کیونکہ وہ راستہ ہموار تھا تو تم نے خود میری تجویز رد کردی تھی۔ اگر اس طرح ایک بار پھر میری ٹھوڑی تمہاری مانگ کو چھو رہی تھی تو میرا قصور؟

جب تم کالج سے دوپہر کو گھر آتی تھیں تو میں اپنی کھڑکی کھولے ہوئے بیٹھا ہوتا۔ ہمارے گھر کے عین سامنے ایک چھوٹی سی کھائی تھی جسے تم ہمیشہ پھلانگ کر گزرا کرتی تھیں۔ تمہارے ساتھ اور دو تین لڑکیاں بھی ہوتیں مگر وہ کھبی اس طرح نہ گزری تھیں یا تو اس سے کترا جاتیں یا ایک پاؤں اس میں اتار کر دوسرا اگلے کنارے پر رکھ دیتیں۔ میں یہی نظارہ کرنے کے لئیے کھڑکی کے پٹ کھولے رکھتا تھا۔ تھوڑے عرصے بعد وہ کھائی پر ہوگئی لیکن تم نے اپنا انداز نہ بدلا۔ تم اس تازہ ڈھلی ہوئی مٹی پر سے اسی طرح گزرتی رہیں جیسے کھائی پر سے گزرتی تھیں اور وہ نشیب پر ہونے کے باوجود میری کھڑکی بند نہ ہوئی۔ جب میں نےخدا کو ماننا چھوڑ دیا تو اوروں کے ساتھ تمہیں بھی رنج ہوا بھائی جان سے میری لمبی لمبی بحثیں سن کر تم نے مجھ سے پوچھا تھا۔ “آخر آپ خدا کو مانتے کیوں نہیں؟”
تو میں نے کہا تھا کہ “اس کے ماننے یہ نہ ماننے سے انسانی زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔” تو تم نے جواب دیا تھا کہ “میں تو سمجھتی تھی فلسفہ پڑھنے سے تمہارا دماغ روشن ہوجائے گا۔ پر…”
“روشن ہی تو ہوا ہے۔” میں نے کہا تھا “جب وقت…”
“وقت اور فاصلہ میں کچھ نہیں سمجھتی۔” تم نے بات کاٹ کر کہا۔ “آج سے خدا کو مانا کرو۔”
“لیکن… “
“لیکن کچھ نہیں۔ میں جو کہتی ہوں خدا ہے۔”
“پر…”
“اچھا تو جاکر اپنی کھڑکی بند کرلو۔ سمجھ لو آج سے وہ کھائی پر ہوچکی۔”
میں تم سے تو شاید نہ ڈرتا لیکن تمہاری دھمکی سے ڈر گیا اور اس دن سے مجھے ہر شے میں خدا کا ظہور نظر آنے لگا۔

* * اشفاق احمد مرحوم کے افسانے ‘رات بیت رہی ہے’ سے اقتباس۔ یہ افسانہ ان کے مجموعے ‘ایک محبت سو افسانے’ میں شائع ہوا تھا۔

Comments (2)

خوشبو


خوشبو، ہوا، تتلیاں اور پھول۔ یہ الفاظ سن کر اردو شاعری کا جو چہرہ ذہن میں آتا ہے وہ خوبصورت چہرہ ہے پروین شاکر کا۔ پروین شاکر ایک شاعرہ سے بڑھ کر ایک رہنما ثابت ہوئیں۔ اردو شاعری میں جدید، پرکشش اور پراثر نسوانی طرز کی بنیاد ڈالنے والی یہ شاعرہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ کر ہم سے جدا ہوگئیں۔ لیکن ان کے کلام کی خوشبو ہوا کے ساتھ ساتھ پھیلتی رہی۔ ان کی شاعری نے پہلی مرتبہ پاکستانی عورتوں اور دنیا بھر کی خواتین کے جذبات اور احساسات کی اردو شاعری میں ترجمانی کی۔ پروین شاکر کی نظموں کی وہ لڑکی جو دریا کے کنارے پر بیٹھی اپنے بالوں میں چمکتی پانی کی بوندوں کو دیکھ کر کھو جاتی ہے۔ وہی لڑکی جہاں ایک طرف خوشبو اور پیار کے چند بولوں کی غلام نظر آتی ہے وہیں قربانی، وفا اور ایثار کا پیکر بھی۔

ان کی برسی چند دن پہلے منائی گئی اسی سلسلے میں پیش خدمت ہے ان کے کلام سے انتخاب۔ سب سے پہلے ایک غزل سے چند اشعار:

مشکل ہے شہر میں نکلے کوئی گھر سے
دستار پہ بات آگئی ہے ہوتی ہوئی سر سے

برسا بھی تو کس دشت کے بے فیض بدن پر
اک عمر میرے کھیت تھے جس ابر کو ترسے

اس بار جو ایندھن کے لئیے کٹ کے گرا ہے
چڑیوں کو بڑا پیار تھا اس بوڑھے شجر سے

اب ایک نظم جس کا عنوان ہے ‘پیار’:

ابر بہار نے
پھول کا چہرہ
اپنے بنفشی ہاتھ میں لیکر
ایسے چوما
پھول کے سارے دکھ
خوشبو بن کر بہہ نکلے ہیں

ایک اور نظم جس کا عنوان ہے توقع:

جب ہوا
دھیمے لہجوں میں کچھ گنگناتی ہوئی
خواب آسا، سماعت کو چھوجائے، تو
کیا تمہیں کوئی گزری ہوئی بات یاد آئے گی؟

ان کے آخری مجموعہ کلام کف آئینہ سے ایک نظم:

یہ بارش خوبصورت ہے
ایک عرصے بعد
میری روح میں
سیراب ہونے کی تمنا جاگ اٹھی ہے
مگر بادل کے رستے میں
بہت سے پیڑ آتے ہیں
میں پل بھر کے لئیے شاداب ہوں
اور اپنی باقی عمر
پھر صحرا میں کاٹوں؟

میں اپنی پیاس پر راضی رہوں گی
مرے آنسو مرے دل کی کفالت کے لئیے کافی رہیں گے

اور آخر میں پیش خدمت ہیں ان کی ایک مشہور غزل کے چند اشعار:

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں
ایک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں

نیند آجائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں
آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں

شام ہوگئی دھندلا گئ آنکھیں بھی مری
بھولنے والے میں کب تک ترا رستہ دیکھوں

پروین شاکر کے مجموعے ماہ تمام سے انتخاب اردو پوائنٹ پر یہاں پڑھا جاسکتا ہے۔ مزید کلام رومن اردو میں اردو پوئٹری ڈاٹ کام پر پڑھا جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ پروین شاکر کی مختصر پروفائل یہاں پڑھئیے۔

Comments (1)

Older Posts »