Archive for January, 2006
January 31, 2006 at 2:47 am
· Filed under شاعری
آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا
جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا
خواب سا دیکھا ہے تعبیر نہ جانے کیا ہو
زندگی بھر کوئی اب خواب ہی دوہرائے گا
ٹوٹ جائیں نہ کہیں پیار کے نازک رشتے
وقت ظالم ہے ہر اک موڑ پہ ٹکرائے گا
عشق کو جرم سمجھتے ہیں زمانے والے
جو یہاں پیار کرے گا وہ سزا پائے گا
۔۔۔ عبید اللہ علیم ۔۔۔ ١٩٦٤ ۔۔۔
Permalink
January 30, 2006 at 12:54 am
· Filed under شاعری
کوئی لاکھ سمندر پی جائے
کوئی لاکھ ستارے چھو آئے
کوئی پیاس کہیں رہ جاتی ہے
کوئی آس کہیں رہ جاتی ہے
کوئی زیست کا ساغر بھرتا ہے
کوئی پھِر خالی ہو جاتا ہے
کوئی لمحے بھر کو آتا ہے
کوئی پل بھر میں کھو جاتا ہے
کوئی پیاس کہیں رہ جاتی ہے
کوئی آس کہیں رہ جاتی ہے
۔۔۔ عبیداللہ علیم ۔۔۔ ١٩٩٠ ۔۔۔
Permalink
January 26, 2006 at 11:28 pm
· Filed under شاعری
خواہش ہو اگر تيری کہ ہو کام فٹا فٹ
اے دوست ميری ميز پر رکھ دام فٹا فٹ
دولت بھي عجب چيز ہے اس دور ميں بھيا
محبوب بھي آتا ہے لبِ بام فٹا فٹ
جو يار فرمائش پوری نہيں کرتے
وہ عشق ميں ہو جاتے ہيں ناکام فٹا فٹ
گفتار کے غازي ہو تو بن سکتے ہو ليڈر
تقريروں سے پبلک کو کرو رام فٹا فٹ
کھانے ميں نمک کم ہو کہ ہو مرچ زيادہ
ميں گھر ميں مچا ديتا ہوں کہرام فٹا فٹ
عيد آئي کہ آئي ہے مري شامتِ اعمال
ہر شخص طلب کرتا ہے انعام فٹا فٹ
تنقيد تو کرتے ہو ضياء يہ بھي سمجھ لو
ہو جائو گے تم شہر ميں بدنام فٹا فٹ
ضياء الحق قاسمي
Permalink
January 25, 2006 at 4:09 pm
· Filed under شاعری
ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گذری ھے رقم کرتے رہیں گے
اسباب غم عشق بہم کرتے رہیں گے
ویرانی دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے
ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑھے گی
ہاں اہل ستم مشق ستم کرتے رہیں گے
منظور یہ تلخی یہ ستم ہم کو گوارہ
دم ہے تو مداواء علم کرتے رہیں گے
باقی ہےلہو دل میں تو ہر اشک سے پیدا
رنگ لب و رخسار صنم کرتے رہیں گے
اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے
فيض احمد فيض
Permalink
January 25, 2006 at 12:33 am
· Filed under شاعری
تيرگي ہے کہ امنڈتي ہي چلي آتي ہے
شب کي رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو جيسے
چل رہی ہے کچھ اس انداز سے نبضِ ہستی
دونوں عالم کا نشہ ٹوٹ رہا ہو جيسے
رات کا گرم لہو اور بھي بَہ جانے دو
يہی تاريکی تو ہے غازہِ رخسارِ سحر
صبح ہونے ہی کو ہے اور دل بيتاب ٹہر
ابھی زنجير چھٹکتی ہے پسِ پردہ ساز
مطلق الحکم ہے شيرازہ اسباب ابھي
ساغر ناب ميں آنسو بھي ڈھلک جاتے ہيں
لغزش پا ميں ہے پابندی آداز ابھي
اپنے ديوانوں کو ديوانہ تو بن لينے دو
اپنے ميخانوں کو ميخانہ تو بن لينے دو
جلد يہ سطوت اسباب بھي اٹھ جائے گی
يہ گرانباري آداب بھي اٹھ جائے گی
خواہ زنجير چھٹکتی ہي، چھٹکتی ہی رہے
فيض احمد فيض
Permalink
January 22, 2006 at 2:10 am
· Filed under ابن انشاء, ادب
ايک تھي چڑيا، ايک تھا چڑا، چڑيا لائي دال کا دانا، چڑا لايا چاول کا دانا، اس سے کچھڑي پکائي، دونوں نے پيٹ بھر کر کھائي، آپس ميں اتفاق ہو تو ايک ايک دانے کي کچھڑي بھي بہت ہوتي ہے۔
چڑا بيٹھا اونگھ رہا تھا کہ اس کے دل ميں وسوسہ آيا کہ چاول کا دانا بڑا ہوتا ہے، دال کا دانا چھوٹا ہوتا ہے۔ پس دوسرے روز کچھڑي پکي تو چڑے نے کہا اس میں چھپن حصے مجھے دے، چواليس حصے تو لے، اے باگھوان پسند کر يا نا پسند کر ۔ حقائق سے آنکھ مت بند کر ، چڑے نے اپني چونچ ميں سے چند نکات بھي نکالے، اور بي بي نے آگے ڈالے۔ بي بي حيران ہوئي بلکہ رو رو کر ہلکان ہوئي کہ اس کے ساتھ تو ميرا جنم کا ساتھ تھا ليکن کيا کر سکتي تھي۔
دوسرے دن پھر چڑيا دال کا دانا لائي اور چڑا چاول کا دانا لايا۔ دونوں نے الگ الگ ہنڈيا چڑھائي ، کچھڑي پکائي ، کيا ديکھتے ہیں کہ دو ہي دانے ہيں، چڑے نے چاول کا دانا کھايا، چڑيا نے دال کا دانا اٹھايا ۔ چڑے کو خالي چاول سے پيچش ہوگئي چڑيا کو خالي دال سے قبض ہو گئي۔ دونوں ايک حکيم کے پاس گئے جو ايک بِلا تھا، اس نے دونوں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ پھيرا اور پھيرتا ہي چلا گيا۔
ديکھا تو تھے دو مشت پر
يہ کہاني بہت پرانے زمانے کي ہے۔ آج کل تو چاول ايکسپورٹ ہو جاتا ہے اور دال مہنگي ہے۔ اتني کہ وہ لڑکياں جو مولوي اسماعيل ميرٹھي کے زمانے ميں دال بگھارا کرتي تھيں۔ آج کل فقط شيخي بگھارتي ہيں۔
ابن انشاء
Permalink
January 19, 2006 at 7:41 pm
· Filed under شاعری
برسوں کے بعد ديکھا شخص دلربا سا
اب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا
ابرو کِھچھے کِھچھے سے آنکھيں جھکي جھکي سي
باتيں رکي رکي سي، لہجہ تھکا تھکا سا
الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں
بن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ
خوابوں ميں خواب اس کے، يادوں ميں ياد اس کي
نيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے کہ رتجگا سا
پہلے بھي لوگ آئے کتنے ہي زندگي ميں
وہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا
اگلي محبتوں نے وہ نامرادياں ديں
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا
احمد فراز
Permalink
January 16, 2006 at 2:42 am
· Filed under شاعری
يہ عالم شوق کا ديکھا نہ جائے
وہ بت ہے يا خدا، ديکھا نہ جائے
يہ کن نظروں سے تو نے آج ديکھا
کہ تيرا ديکھنا، ديکھا نہ جائے
ہميشہ کيلئے مجھ سے بچھڑ جا
يہ منظر بارہا ديکھا نہ جائے
غلط ہے سنا پر آزما کر
تجھے اے بے وفا ديکھا نہ جائے
يہ محرومي نہيں پاس وفا ہے
کوئي تيرے سوا ديکھا نہ جائے
يہي تو آشنا بنتے ہيں آخر
کوئي نا آشنا ديکھا نہ جائے
فراز اپنے سوا ہے کون تيرا
تجھے تجھ سے جدا ديکھا نہ جائے
احمد فراز
Permalink
Older Posts »