آج جانے کی ضد نہ کرو
یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو
ہائے مر جائیں گے ہم تو لٹ جائیں گے
ایسی باتیں کیا نہ کرو
آج جانے کی ضد نہ کرو
یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو
تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکين تمہیں
جان جاتی جب اٹھ کہ جاتے ہو تم
تم کو اپنی قسم جان جاں
بات اتنی میری مان لو
آج جانے کی ضد نہ کرو
یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو
وقت کی قید میں زندگی ہے مگر
چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں
ان کو کھو کر میری جان جاں
عمر بھر نہ ترستے رہو
آج جانے کی ضد نہ کرو
یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو
کتنا ماسوم و رنگیں ہے یہ سما
حسن اور عشق کی آج معراج ہے
کل کی کس کو خبر جان جاں
روک لو آج کی رات کو
آج جانے کی ضد نہ کرو
یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو






asma said
assalam o alaykum w.w.
Beautiful piece … Asha bhonslay has sung it wll but that is nothing what habib wali Muhammad sang … originally !
sanai said
does anyone know whose poetry is this … i mean who has written it ??
daSh of sPice … » Blog Archive » اَج لتھا نئیوں اے said
[...] Its lyrics reminds me of Aaj Janay ki Zid na karo [...]