متاع لوح و قلم

متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
کہ خون دل میں ڈبو لی ہیں انگلیاں میں نے
زبان پہ مہر لگی ہے تو کیا کہ رکھ دی ہے
ہر ایک حلقہ زنجیر میں زباں میں نے

فیض احمد فیض

1 Comment »

  1. khawab said

    awsome…..

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

Leave a Comment