وہ کہہ رہی تھی کہ سب کچھ ہے ساعتِ موجود
مناؤ شوق سے جو بھی خوشی میسر ہو
وہ کہہ رہی تھی کہ ماضی کا غم بھلا ڈالو
نہ لب پہ آہ نہ آنکھوں میں اشک ہو
وہ کہہ رہی تھی کہ کرو تم نہ فکرِ مستقبل
فلک جو رنگ دکھائے گا دیکھا جائے گا
وہ کہہ رہی تھی ۔۔۔ مگر میں عمل نہ کر پایا
کہ میرا خاطرِ حساس میرے بس میں نہیں
مجھے ہے ربطِ غمِ دوش و فکرِ فردا سے
میں اپنا گزرا زمانہ بھلا نہیں سکتا
!!!میں فکرِ فردا سے دامن چھڑا نہیں سکتا
۔۔۔ ظہور احمد فاتح ۔۔۔





