Archive for March, 2007

ستارے اور ہلال

 

 

ابن انشاء

 

واہ واہ کيا سہانا منظر ہے۔ ستارے يہاں سے وہاں تک چھٹکے ہوئے ہيں۔ ان کي کثرت سے گمان ہوتا ہے۔جيسے ميٹرک کا رزلٹ شائع ہوا ہو۔ ادھر ايک ہلال بھي جگمگا رہا ہے۔آسمان کي رونق بڑھا رہا ہے۔

 

ستارے چمکتے دمکتے بہت بھلے معلوم ہوتے ہيں ليکن کبھي کبھي ٹوٹ کر گر بھي جاتے ھيں۔جب يہ مٹي ميں مل جائے تو کوئي نہيں پوچھتا۔ وہي ستارے جو دوسروں کي تقدير کي خبر ديا کرتے ہيں ،بلکہ لوگوں کي قسمت بنايا بگاڑا کرتے ہيں،کبھي کبھي خود دوسروں سے اپني قسمت کا حال بجھواتے جنترياں کھلواتے نظر آتے ہيں ۔ہلال کا بھي ايسا احوال ہے۔ جب تک آسمان پر ہے ۔بس ہے آنکھ اوجھل، پہاڑ اوجھل ،ستارے اور ہلال اچھے ہيں ليکن عزت کي غريبانہ زندگي ان سے بھتر ہے۔

 

ہلال يعني نئے چاند کو پرانے لوگ دود ہي سے ديکھا کرتے تھے اور سلام کيا کرتے تھے ،وہ بھي عيد بقرعيد پر۔اس زمانے ميں يہ چپ چاپ آپ ہي آپ نکل آتا تھا پھر ايسا دور آيا کہ لوگوں نے کھديڑ کر نکالنا شروع کر ديا۔ بلکہ آپس ميں لڑتے تھے کہ کون نکالے ۔چاند کے لئے ہبڑي مشکل ہوتي تھي کہ سرکار کا کہا مانے يا لوگوں کا۔ بيشک اتني بڑي قوم کے لئے ايک دن کي عيد کافي نہيں يکے بعد ديگرے دو تين دن کي ہو ۔ ليکن اس ميں سر پھٹول بہت تھي۔ اب يہ سلسلہ بند ہے ۔اور يہ بات ہميں پسند ہے۔

 

عيد کا پيغام لانے کے علاوہ چاند کا کوئي خاص مصرف نہ تھا۔ بس شاعر اور حکپور وغيرہ اس سے بات کر ليتے تھے يا پھر ان بستيوں ميں جہاں بجلي نہيں يہ لالٹين کا کام ديتا تھا ۔کچھ عرصہ ہوا ولايت والوں کو اس کے پيلے رنگ سے خيال ہوا کہ يہ سونے کا بنا ہوا ہے آخر اڑ کر جا پہنچے اور کالي کالي مٹي کي بورياں بھر لائے اور يہاں لا کر معلوم ہوا کہ ايسي مٹي بلکہ اس سے اچھي مٹي تو يہاں بھي ڈھيروں ہے بہت پچھتائے۔

 

آج کل ہمارے ملک ميں ہر شے ميں خود کفيل ہونے کا امکان ہے ۔اب لوگ آسمان کے چاند ستاروں کے بھي چنداں متحاج نہيں رہے ۔فلمي ستارے جن کے دم سے زمانے ميں اجالا ہے ہمارے ملک ميں بنتے ہيں اور اچھے بنتے ہيں۔ بلکہ اب تو سادر کے ملکوں برطانيہ، روس، کينيا وغيرہ کو بہي بھيجے جاتے ہيں ۔چاند بھي ديسي برا نہيں ہوتا ۔ہم نے جس چاند کے بارے ميں نطموں غزلوں کي پوري کتاب چاند نگر لکھ ڈالي وہ بھي مقامي ساخت کا تھا ۔مال اس ميں اچھا لگا تھا ۔مدتوں چلا۔

 

 

Leave a Comment

میں نہیں مانتا

وہ بھی خائف نہیں تختہءِ دار سے

میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے

 

کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے

 

ظلم کی بات کو جہل کی رات سے

 

ًمیں نہیں مانتا، میں نہیں‌جانتا

 

تم نے لوٹا ہے صدیوں ہمارا سکوں

 

اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں

 

چارہ گر میں تمہیں کس طرح سے کہوں

 

میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

 

دیپ جس کا محلات میں ہی جلے

 

چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے

 

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے

 

ایسے دستور کو صبحِ بے نور کو

 

میں نہیں مانتا، میں نہیں جانتا

 

 

۔۔۔ حبیب جالب ۔۔۔

 

 

Comments (2)

جہل کا نچوڑ


میں نے اس سے یہ کہا

 

یہ جو دس کروڑ ہیں

 

جہل کا نچوڑ ہیں

 

ان کی فکر سو گئی

 

ہر امید کی کرن

 

ظلمتوں میں کھو گئی

 

یہ خبر درست ہے

 

ان کی موت ہوگئی

 

بے شعور لوگ ہیں

 

زندگی کا روگ ہیں

 

اور تیرے پاس ہے

 

ان کے درد کی دوا

 

 

حبیب جالب کی یہ نظم کچھ حسبِ موقع لگی ہے۔

Leave a Comment

نظر فريب

 

نظر فريب قضا کھا گئي تو کيا ہوگا
حيات مو تسے ٹکرا گئي تو کيا ہوگا

بزعم ہوش تجلي کي جستجو بے سود
جنوں کي زد پہ خرو آگئي تو کيا ہوگا

نئي سحر کے بہت لوگ منتظر ہيں مگر
نئي سحر بھي جو کجلا گئي تو کيا ہوگا

نہ رہنمائوں کي مجلس ميں لے چلو مجھ کو
ميں بے ادب ہوں ہنسي آگئي تو کيا ہوگا

غم حيات سے بيشک ہے خود کشي آساں
مگر جو موت بھي شرما گئي تو کيا ہوگا

احسان دانش

Comments (4)