کچھ قسمیں تم بھی بھول گئے
کچھ وعدے ہم بھی توڑ گئے
یوں ساتھ بھی کب تک چلتے تم
اک موڑ پہ آکے چھوڑ گئے
سب رستے دھندلے رستے ہیں
پر اب بھی ہم اس موڑ پہ کھڑے
خالی دل خالی جان لئے
ہم آج بھی تم کو تکتے ہیں
۔۔۔ ضیاء عثمانی کی “کھو نہ جانا“ سے ۔۔۔
کچھ قسمیں تم بھی بھول گئے
کچھ وعدے ہم بھی توڑ گئے
یوں ساتھ بھی کب تک چلتے تم
اک موڑ پہ آکے چھوڑ گئے
سب رستے دھندلے رستے ہیں
پر اب بھی ہم اس موڑ پہ کھڑے
خالی دل خالی جان لئے
ہم آج بھی تم کو تکتے ہیں
۔۔۔ ضیاء عثمانی کی “کھو نہ جانا“ سے ۔۔۔
اجمل said
محبتوں کے قدر داں نہ شہر میں نہ گاؤں میں
Doctimes said
بہت خوب
Asma said
Thanks to the poet :>
Thanks for coming by :>
Some One Some Where said
very beautiful