دلِ‌ من مسافرِ من


دلِ‌ من مسافرِ من

ہوا پھر سے حکم صادر

دیں گلی گلی صدائیں

کریں رخ نگر نگر کا

کہ سراغ کوئی پائیں

کسی یار نامہ بر کا

ہر اک اجنبی سے پوچھیں

جو پتا تھا اپنے گھر کا

سر کوئے ناشنایاں

ہمیں دن سے رات کرنا

کبھی اِس سے بات کرنا

کبھی اُس سے بات کرنا

تمہیں کیا کہوں کہ کیا ہے

شبِ غم بری بلا ہے

ہمیں یہ بھی تھا غنیمت

جو کوئی شمار ہوتا

ہمیں کیا برا تھا مرنا

اگر ایک بار ہوتا !!!

۔۔۔ فیض احمد فیض ۔۔۔

2 آراء »

  1. Aks.. said

    one of the best pieces. thanx for sharing:)

  2. Asma said

    No problem any time :>

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

Leave a Comment