گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست

گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست
گر مجھے اس کا یقین ھو کہ ِترے دل کی تھکن
تیری آنکھوں کی اداسی ، ترے سینے کی جلن
میری دل جوئی ، مرے پیار سے مٹ جائے گی
گر مرا حرفِ تسلّی وہ دوا ھو جس سے
جی اٹھے پھر ترا اجڑا ھوا بے نور دماغ
تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ
تیری بیمار جوانی کو شفا ھو جائے
گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست
روز و شب ، شام و سحر میں تجھے بہلاتا رھوں
میں تجھے گیت سناتا رھوں ھلکے ، شیریں
آبشاروں کے بہاروں کے ، چمن زاروں کے گیت
آمدِ صبح کے ، مہتاب کے ، سیّاروں کے گیت
تجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوں
کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم
گرم ھاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ھیں
کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ھوئے مانوس نقوش
دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ھیں
کس طرح عارضِ محبوب کا شفّاف بلور
یک بیک بادہِ احمر سے دہک جاتا ھے
کیسے گلچیں کے لئے جھکتی ھے خود شاخِ گلاب
کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ھے
یونہی گاتا رھوں ، گاتا رھوں تیری خاطر
گیت ُبنتا رھوں، بیٹھا رھوں تیری خاطر
پر مرے گیت ترے دکھ کا ُمداوا ھی نہیں
نغمہ جرّاح نہیں، مونس و غم خوار سہی
گیت نشتر تو نہیں ، مرھم ِ آزار سہی
تیرے آزار کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا
اور یہ سفّاک مسیحا مرے قضے میں نہیں
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
ھاں مگر تیرے سوا ، تیرے سوا ، تیرے سوا

 

فیض احمد فیض

6 Comments »

  1. Aks.. said

    haan magar tairay siwa!:)

  2. Naseer Haider said

    اسلام علیکم
    یا کیا یہ آیوڈیو میں دستیباب ہے اگر ہے تو مجھے میل کر دیں شکریہ

  3. Dinky Mind said

    One of my most favourite works by Faiz. Just love it. And have you heard how Tina Sani has sung it. Its awesome-ish.

  4. a s m a said

    Thanks ya all for coming by :)

  5. ھانی السعید said

    بڑی اچھی اور خوبصورت نظم ہے ۔ میں نے اس کا عربی ترجمہ کیا تھا۔

  6. a s m a said

    یہاں آنے اور آپکے تبصرے کا بہت شکریہ۔

    فیض کی شاعری کا ترجمہ مجھے یقین ہے آسان نہیں ہوگا،

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

Leave a Comment