ہوائے شام کے رنگیں دیار جلنے لگے

ہوائے شام کے رنگیں دیار جلنے لگے
ہوئی جو شام تو جھکّڑ عجیب چلنے لگے
تھی شام زہر رنگ میں ڈوبی ہوئی کھڑی
پھر اک ذرا سی دیر میں منظر بدل گیا
یاد بھی ہیں اے منیر اس شام کی تنہائیاں
ایک میداں اک درخت اور تو خدا کے سامنے
شفق کا رنگ جھلکتا تھا لال شیشوں میں
تمام اجڑا مکاں شام کی پناہ میں تھا
شام کے رنگوں میں رکھ کر صاف پانی کا گلاس
آبِ سادہ کو حریف رنگِ بادہ کردیا

Leave a Comment