Archive for November, 2007

untitled, originally uploaded by saima rasheed (sayyam).

 

Comments

خواب مرتے نہیں

خواب مرتے نہیں


خواب دل ہیں نہ آنکھیں

 

نہ سانسیں کہ جو

 

ریزہ ریزہ ہوئے تو بکھر جائیں گے

 

جسم کی موت سے بھی یہ نہ مر جائیں گے

 

خواب مرتے نہیں

 

خواب تو روشنی ہیں

 

نوا ہیں

 

ہوا ہیں

 

جو کالے پہاڑوں سے رکتے نہیں

 

ظلم کے دوزخوں سے پُھکتے نہیں

 

روشنی اور نوا اور ہوا کے عَلَم

 

مقتلوں میں پہنچ کر بھی جھکتے نہیں

 

خواب تو حرف ہیں

 

خواب تو نور ہیں

 

خواب تو منصور ہیں


خواب مرتے نہیں

 

 

احمد فراز

Comments (4)