Archive for مئی, 2005

لازم تھا کہ دیکھو

دیوان غالب میں سے اگر کوئی مجھ سے میری سب سے زیادہ پسندیدہ غزل کا پوچھے تو میں آنکھیں اور
دیوان ِ غالب بند کرکے یہ غزل سنا سکتی ہوں ۔۔۔

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور
تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور

مٹ جائیگا سَر گر ترا پتھر نہ گھِسے گا
ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور

آئے ھو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جائوں
مانا کہ ھمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب گویا قیامت کا ہو کوئی دن اور

ہاں اے فلک پیر جواں تھا ابھی عارف
کیا ترا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور

تم ماہِ شب چار دہم تھے مرے گھر کے
پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشہ کوئی دن اور

تم کون سے کھرے تھے ایسے داد و ستد کے
کرتا ملکُ الموت تقاضا کوئی دن اور

مجھ سے تمہیں نفرت سہی نیر سے لڑائی
بچوں کا بھی نہ دیکھا تماشا کوئی دن اور

گزری نہ بہرحال یہ مدت خوش و ناخوش
کرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور

ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالب
قسمت میں ہے، مرنے کی تمنا کوئی دن اور

!والسلام

Comments (2)

بہار آئی

بہار آئی تو جیسے یکبار
لَوٹ آئے ہیں پھر عدم سے
وہ خواب سارے، شباب سارے
جو تیرے ہونٹوں پہ مر مِٹے تھے
جو مِٹ کے ہر بار پھر جِیئے تھے
نِکھرگئے ہیں گلاب سارے
جو تیری یادوں سے مُشکبُو ہیں
جو تیرے عُشّاق کا لہو ہیں
اُبل پڑے ہیں عذاب سارے
مَلالِ احوالِ دوستاں بھی
خُمارِآغوشِ مہ وشاں بھی
غُبارِخاطر کے باب سارے
ترے ہمارے
سوال سارے جواب سارے
بہار آئی تو کِھل گئے ہیں
نئے سِرےسے حساب سارے
بہار آئی۔۔۔
فیض اپریل 1975ء
Mobile post      Posted by Harris

Comments (3)

نظم

،میرے ھمسفر تجھے کیا خبر
یہ جو وقت ھے کسی دھوپ چھاؤں کے کھیل سا
اسے دیکھتے، اسے جھیلتے
میری آنکھ گرد سے اٹ گئی
میرے خواب ریت میں کھو گئے
میرے ہاتھ برف سے ہو گئے
میرے بے خبر، تیرے نام پر
وہ جو پھول کھلتے تھے ہونٹ پر
وہ جو دیپ جلتے تھے بام پر
وہ نہیں رہے ۔۔۔۔وہ نہیں رہے
وہ جو ایک ربط تھا درمیاں
وہ بکھر گیا۔۔۔
وہ ہوا چلی
کسی شام ایسی ہوا چلی
کہ جو برگ تھے سر شاخ جاں
وہ گرا دئیے
وہ جو حرف دشت تھے ریت پر
وہ اڑا دئیے
وہ جو راستوں کے یقیں تھے
وہ جو منزلوں کے امیں تھے
وہ نشان ِ پا بھی مٹا دئیے
میرے ہمسفر ہے وہی سفر مگر ایک موڑ کے فرق سے
تیرے ہاتھ سے میرے
ہاتھ تک
وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ
کئی موسموں میں بدل گیا
اسے ناپتے، اسے کاٹتے
میرا سارا وقت نکل گیا
تو میرے سفر کا شریک ھے
میں تیرے سفر کا شریک ھوں
تھے جو درمیاں سے نکل گیا
کسی فاصلے کے شمار سے
کسی بے یقیں سے غبار سے
کسی رہ گزر کے حصار میں
تیرا راستہ کوئی اور ھے
!میرا راستہ کوئی اور ھے

(ناصرہ زبیری)

Comments (2)

یہ جو ریگ دشت فراق ہے

یہ جو ریگ دشت فراق ہے یہ رکے اگر
یہ رکے اگر تو نشاں ملے
کہ جو فاصلوں کی صلیب ہے
یہ گڑی ہوئی ہے کہاں کہاں؟
مرے آسماں سے کدھر گئی ترے التفات کی کہکشاں
مرے بے خبر، مرے بے نشاں
یہ رکے اگر تو پتا چلے
میں تھا کس نگر تو رہا کہاں
کہ زماں و مکاں کی وسعتیں
تجھے دیکھنے کو ترس گئیں
وہ میرے نصیب کی بارشیں )
کسی اور چھت پر برس گئیں
مرے چار سوہے غبار جاں، وہ فشار جاں
کہ خبر نہیں مرے ہاتھ کو مرے ہاتھ کی
مرے خواب سے تیرے بام تک
تری رہگزر کا تو ذکر کیا
نہیں ضوفشاں تیرا نام تک!
ہیں دھواں دھواں مرے استخواں
مرے آنسوؤں میں بجھے ہوۓمرے استخواں
مرے نقش گر مرےنقش جاں
اسی ریگ دشت فواق میں رہے منتظر ترے منتظر
مرے خواب جن کے فشار میں
رہی مرے حال سے بے خبر
تری رہگزر
تری رہگزر کہ جو نقش ہے مرے ہاتھ پر
مگر اس بلا کی ہے تیرگی
کہ خبر نہیں مرے ہاتھ کومرے ہاتھ کی
وہ جو چشم شعبدہ ساز تھی وہ اٹھے اگر
میرے استخواں میں ہو روشنی
اسی ایک لمحہ دید میں تری رہگزر
میری تیرہ جاں سے چمک اٹھے
مرے خواب سے ترے بام تک
سبھی منظروں میں دمک اٹھے
اسی ایک پل میں ہو جاوداں
مری آرزو کہ ہے بے کراں
مری زندگی کہ ہے مختصر
جو ریگ دشت فراق ہے یہ رکے اگر۔۔۔

دختر سے شکریہ کے ساتھ ^_^

Comments (3)

(بيان پالتو جانورں کا (تحرير ابنِ انشاء

بھلا ایسا بھی کوئی گھر ہے جس ميں ایک نہ ایک پالتو جانور نہ ہو. گائے نہیں تو بھینس، بھیڑ نہیں تو بکری. کتا نہیں تو بّلی، گھوڑا نہیں تو گدھا. جانور پالنا بڑی اچھی بات ہے. یہ صرف انسان کا خاصہ ہے. آپ نے کبھی نہ دیکھا ہوگا کہ کسی طوطے نے خرگوش پالا ہو، کسی مرغی نے کوئی بّلی پالی ہو، یا کسی گدھے نیں کوئی گھوڑا پالا ہو. گدھا بظاہر کیسا بھی نظر آئے ایسا گدھا بھی نہیں ہوتا.

 

پہلی قسم: دُدھ دینے والے جانور مثلاً گائے، بھینس، بکری وغیرہ
دوسری قسم: دُودھ پینے والے جانور مثلاً بّلی، کبھی سامنے کبھی چُوری چُھپے.
تیسری قسم: جو نہ دودھ دیتے ہیں نہ دودھ پیتے ہیں، مثلاً مرغی، کبوتر، طوطا وغیرہ
چوتھی قسم ہم بھول گئے ہیں، اس لئے اسے نظر انداز کرتے ہیں، اور تھوڑا تھوڑا حال ان جانوروں کا لکھتے ہیں

 

بھینس

 

بہت مشہور جانور ہے، قدمیں عقل سے تھوڑا بڑا ہوتا ہے. چوپایوں مین یہ واحد جانور ہے کہ موسیقی سے ذوق رکھتا ہے. اسی لئے لوگ اِس کے آگے بین بجاتے ہیں. کسی اور جانور کے آگے نہیں بجاتے.

 

بھینس کبھی دودھ دیتی ہے لیکن وہ کافی نہیں ہوتا. باقی دودھ گوالا دیتا ہے اور دونوں کے باہمی تعاون سے ہم شہریوں کا کام چلتا ہے. تعاون اچھی چیز ہے لیکن پہلے دودھ کو چھان لینا چاہیئے تاکہ مینڈک نکل جائیں.

 

بھینس کا گھی بھی ہوتا ہے، بازار میں ہر جگہ ملتا ہے. آلوؤں، چربی اور وٹامن سے بھرپور. نشانی اس کی یہ ہوتی ہے کہ پیپے پر بھینس کی تصویر بنی ہوتی ہے اس سے زیادہ تفصیل ميں نہ جانا چاہیئے.

 

آج کل بھینس انڈے نہیں دیتی. مرزا غالب کے زمانے کی بھینس دیتی تھی. حکیم لوگ پہلے روغنِ گُل بھینس کے انڈے سے نکالا کرتے تھے. پھر دَوا جتنی ہے کُل بھی نکال لیا کرتے تھے. بہت سے امراض کے لئے مفید ثابت ہوتی تھی.

 

گائے

 

رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی

 

یہ شعر مولوی اسماعیل میرٹھی کا ہے۔ شیخ سعدی وغیرہ کا نہیں ۔ یہ بھی خوب جانور ہے دودھ کم دیتی ہے۔ عزت زیادہ کراتی ہے، پرانے خیال کے ہندو اسے ماتا جی کہ کر پکارتے ہیں، ویسے بچھڑوں سے بھی اس کا یہی رشتہ ہوتا ہے۔

 

صحیح الخیال ہندوگائے کا دودھ پیتے ہیں، اس کے گوبرسےچُوکا لیپتے ہیں لیکن اس کو کاٹنا اور کھانا پاپ سمجھتے ہیں۔ ان کے عقیدے میں جو گائے کو کاٹتا ہے، اورکھاتا ہے سیدھا نرک میں جاتا ہے، راستے میں کہیں دم نہیں لیتا۔ یہی وجہ ہے کہ گائے دودھ دینا بند کر دے تو ہندو اسے قصاب کے ہاتھ بیچ دیتے ہیں۔ قصاب مسلمان ہوتا ہے، اُسے ذبح کر تا ہے اور دوسروں کو کھلاتا ہے، تو سارے نرک میں جاتے ہیں۔ بیچنے والے کو روحانی تسکین ہوتی ہے، پیسے الگ ملتے ہیں۔

 

جن گائیوں کو قصاب قبول نہ کریں انھیں گئو شالاؤں میں رکھا جاتا ہے، جہاں وہ بھوکی رہ کر تپسیا کرتی ہیں، اور کّووں کے ٹھونگے کھاتی پرلوک سدھارتی ہیں۔ غیر ملکی سیاح ان کے فوٹو کھینچتے ہیں، کتابوں میں چھاپتے ہیں۔ کھالیں برامد کی جاتی ہیں۔ زرِمبادلہ کمایا جاتا ہے۔

 

شاستروں میں لکھا ہے کہ دُنیا گائے کے سینگوں پر قائم ہے۔ گائے خود کس چیز پر کھڑی ہے۔ اس کا گوبر کہاں گرتا ہے، اور پیشاب کہاں جاتاہے۔ یہ تفصیلات بخوفِ طوالت شاستروں میں نہیں لکھیں۔

 

. . . . . .

Comments (4)

ھم لوگ نہ تھے ایسے

ھم لوگ نہ تھے ایسے
ہیں جیسے نظر آتے
اے وقت گواہی دے
ھم لوگ نہ تھے ایسے
یہ شہر نہ تھا ایسا
یہ روگ نہ تھے ایسے
دیوار نہ تھے رستے
زندان نہ تھی بستی
آزار نہ تھے رشتے
خلجان نہ تھی ہستی
یوں موت نہ تھی سستی
یہ آج جو صورت ہے
حالات نہ تھے ایسے
یوں غیر نہ تھے موسم
دن رات نہ تھے ایسے
تفریق نہ تھی ایسی
سنجوگ نہ تھے ایسے
اے وقت گواہی دے
ھم لوگ نہ تھے ایسے

امجد اسلام امجد کی یہ نظم کافی عرصہ پہلے پڑھی تھی، اور مجھے بہت اچھی لگتی ہے۔

والسلام!

Comments (9)

اصولِ بیاض

:بیاض میں شمولیت کے لئیے ضروری ہدایات

١ – بیاض میں تحاریر پوسٹ کرنے کے لئیے لازمی ہے کہ آپ اردو یونیکوڈ طریق پر لکھنا جانتے ہوں۔

٢ – بیاض میں کوئی غیر ادبی تحریر پوسٹ نہیں کی جائے گی، ایسی صورتحال میں آپ کو بیاض میں شمولیت سے روک دیا جائے گا۔

٣ – بیاض میں تحاریر صرف اردو میں لکھی جائیں گی۔

٤ – بلاگ ایڈمِن آپ کو شمولیت دینے یا نہ دینے کا حق رکھتی ہے۔

٥ – کوئی تحریر اخلاق سے عاری نہ ہو۔

امید ہے آپ ان اصولوں کی پابندی کریں گے۔

شکریہ

والسلام

اسماء مرزا

تبصرہ کریں