نظم

،میرے ھمسفر تجھے کیا خبر
یہ جو وقت ھے کسی دھوپ چھاؤں کے کھیل سا
اسے دیکھتے، اسے جھیلتے
میری آنکھ گرد سے اٹ گئی
میرے خواب ریت میں کھو گئے
میرے ہاتھ برف سے ہو گئے
میرے بے خبر، تیرے نام پر
وہ جو پھول کھلتے تھے ہونٹ پر
وہ جو دیپ جلتے تھے بام پر
وہ نہیں رہے ۔۔۔۔وہ نہیں رہے
وہ جو ایک ربط تھا درمیاں
وہ بکھر گیا۔۔۔
وہ ہوا چلی
کسی شام ایسی ہوا چلی
کہ جو برگ تھے سر شاخ جاں
وہ گرا دئیے
وہ جو حرف دشت تھے ریت پر
وہ اڑا دئیے
وہ جو راستوں کے یقیں تھے
وہ جو منزلوں کے امیں تھے
وہ نشان ِ پا بھی مٹا دئیے
میرے ہمسفر ہے وہی سفر مگر ایک موڑ کے فرق سے
تیرے ہاتھ سے میرے
ہاتھ تک
وہ جو ہاتھ بھر کا تھا فاصلہ
کئی موسموں میں بدل گیا
اسے ناپتے، اسے کاٹتے
میرا سارا وقت نکل گیا
تو میرے سفر کا شریک ھے
میں تیرے سفر کا شریک ھوں
تھے جو درمیاں سے نکل گیا
کسی فاصلے کے شمار سے
کسی بے یقیں سے غبار سے
کسی رہ گزر کے حصار میں
تیرا راستہ کوئی اور ھے
!میرا راستہ کوئی اور ھے

(ناصرہ زبیری)

Advertisements

2 تبصرے »

  1. Asma said

    Beautiful piece 🙂

    Had heard the hath say hath tak wala part befor ena dlike dit so much … thanks for sharing the whole piece 🙂

    wassalam

  2. Vaqas said

    come on Dinky.
    is that you?

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: