بہار آئی

بہار آئی تو جیسے یکبار
لَوٹ آئے ہیں پھر عدم سے
وہ خواب سارے، شباب سارے
جو تیرے ہونٹوں پہ مر مِٹے تھے
جو مِٹ کے ہر بار پھر جِیئے تھے
نِکھرگئے ہیں گلاب سارے
جو تیری یادوں سے مُشکبُو ہیں
جو تیرے عُشّاق کا لہو ہیں
اُبل پڑے ہیں عذاب سارے
مَلالِ احوالِ دوستاں بھی
خُمارِآغوشِ مہ وشاں بھی
غُبارِخاطر کے باب سارے
ترے ہمارے
سوال سارے جواب سارے
بہار آئی تو کِھل گئے ہیں
نئے سِرےسے حساب سارے
بہار آئی۔۔۔
فیض اپریل 1975ء
Mobile post      Posted by Harris

Advertisements

3 تبصرے »

  1. Asma said

    A well versed ghazal by Faiz and was sung equally well !!!

    On it’s topic … spring …in may’s month 🙂

  2. Dinky Mind said

    Oh, Asma, I wanted to write the same comment 🙂

    I had always been in search of this nazm…
    Thankyou very much for posting it. 🙂

    Cheerio

  3. thank yo very much asma and umema.

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: