لازم تھا کہ دیکھو

دیوان غالب میں سے اگر کوئی مجھ سے میری سب سے زیادہ پسندیدہ غزل کا پوچھے تو میں آنکھیں اور
دیوان ِ غالب بند کرکے یہ غزل سنا سکتی ہوں ۔۔۔

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور
تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور

مٹ جائیگا سَر گر ترا پتھر نہ گھِسے گا
ہوں در پہ ترے ناصیہ فرسا کوئی دن اور

آئے ھو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ جائوں
مانا کہ ھمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب گویا قیامت کا ہو کوئی دن اور

ہاں اے فلک پیر جواں تھا ابھی عارف
کیا ترا بگڑتا جو نہ مرتا کوئی دن اور

تم ماہِ شب چار دہم تھے مرے گھر کے
پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشہ کوئی دن اور

تم کون سے کھرے تھے ایسے داد و ستد کے
کرتا ملکُ الموت تقاضا کوئی دن اور

مجھ سے تمہیں نفرت سہی نیر سے لڑائی
بچوں کا بھی نہ دیکھا تماشا کوئی دن اور

گزری نہ بہرحال یہ مدت خوش و ناخوش
کرنا تھا جواں مرگ گزارا کوئی دن اور

ناداں ہو جو کہتے ہو کہ کیوں جیتے ہیں غالب
قسمت میں ہے، مرنے کی تمنا کوئی دن اور

!والسلام

Advertisements

2 تبصرے »

  1. تم کون سے کھرے تھے ایسے داد و ستد کے
    کرتا ملکُ الموت تقاضا کوئی دن اور

    Ghalib ki rooh ko suroor a gya hoga, jab usne bayaaz ka page open kia hoga.

  2. Dinky Mind said

    Ghalib ko exams kay dinou may bohat perha tha,,,itna kay ab main khud bhee bhool gai houn 🙂
    Btw, nice poetry! My Nani has got Diwan-e-Ghalib!

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: