Archive for جون, 2005

نظم

زندگی کی راہوں میں

بار ہا یہ دیکھا ہے

صرف سُن نہیں رکھا

خود بھی آزمایا ہے

جو بھی پڑھتے آئے ہیں

اسکو ٹھیک پایا ہے

اسطرح کی باتوں میں

منزلوں سے پہلے ہی

ساتھ چھوٹ جاتے ہیں

لوگ روٹھ جاتے ہیں

یہ تمہیں بتا دوں میں

چاہتوں کے رشتوں میں

پھر گرہ نہیں لگتی

لگ بھی جائے تو اُس میں

وہ کشش نہیں رہتی

ایک پھیکا پھیکا سا رابطہ تو رہتا ہے

تازگی نہیں رہتی

۔۔۔ روح کے تعلق میں
زندگی نہیں رہتی ۔۔۔

بات پھر نہیں بنتی

لاکھ بار مل کر بھی

دل کبھی نہیں ملتے!

ذہن کے جھروکوں میں

سوچ کے دریچوں میں

تتلیوں کے رنگوں میں

پھول پھر نہیں کھلتے!

اس لئیے میں کہتا ہوں

اس طرح کی باتوں میں

احتیاط کرتے ہیں

اسطرح کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں!

(محسن نظامی)

یہ بہت خوبصورت نظم فائزہ کے لیئے، ویسے مجھ تک پہنچائی بھی اُسی نے تھی۔

والسلام،

اسماء

Comments (12)

خوشحال سے تُم بھی لگتے ہو

خوشحال سے تُم بھی لگتے ہو

یوں افسردہ تو ہم بھی نہیں

پر جاننے والے جانتے ہیں

خوش تم بھی نہیں خوش ہم بھی نہیں

تم اپنی خودی کے پہرے میں

ہم اپنے زعم کے نرغے میں

انا ہاتھ ہمارے پکڑے ہوئے

اک مدت سے غلطاں پیچاں

ہم اپنے آپ سے الجھے ہوئے

پچھتاوں کے انگاروں میں

محصورِ تلاطم آج بھی ہیں

گو تم نے کنارے ڈھونڈ لیئے

طوفاں سے سنبھلے ہم بھی نہیں

کہنے کو سہارے ڈھونڈ لیئے

خاموش سے تم، ہم مہر بہ لَب

جگ بیت گئے ٹُک بات کیئے

سنو کھیل ادھورا چھوڑتے ہیں

بِنا چال چلے بِنا مات دیئے

جو چلتے چلتے تھک جایئں

وہ سائے رک بھی سکتے ہیں

چلو توڑو قسم اقرار کریں

ہم دونوں جھک بھی سکتے ہیں

(خلیل اللہ فاروقی)

Comments (8)

ذرا سی بات

زندگی کے میلے میں
خواہشوں کے ریلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں
اس قدر جھمیلے میں
وقت کی روانی ہے
بخت کی گِرانی ہے
سخت بے زمینی ہے
سخت لامکانی ہے
ہجر کے سمندر میں
تخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے
تم کو جو سنانی ہے
بات گو ذرا سی ہے
بات عمر بھر کی ہے
عمر بھر کی باتیں کب دَو گھڑی میں ہوتی ہیں
درد کے سمندر میں
اَن گِنت جزیرے ہیں، بیشمار موتی ہیں
آنکھ کے دریچے میں تم نے جو سجایا تھا
بات اُس دیئے کی ہے
بات اُس گِلے کی ہے
جو لہو کی خلوت مین چور بن کے آتا ہے
لفظ کی فصیلوں پہ ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے
زندگی سے لمبی ہے، بات اُس رَت جگے کی ہے
راستے میں کیسے ہو
بات تخلیئے کی ہے
تخلیئے کی باتوں میں گفتگو اِضافی ہے
پیا ر کرنے والوں کو اِک نگاہ کافی ہے
ہو سکے تو سُن جاؤ ایک دن اکیلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں، اس قدر جھمیلے میں

(امجد اسلام امجد)

Comments (1)

تاج محل

“ اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق“

(ساحر لدھیانوی)

– – – – – –

اک شہنشاہ نے دولت کا سہارا لے کر
کون کہتا ہے غریبوں کا اڑایا ہے مذاق
وہ کسی اور کی تضحیک کرے گا کیسے
جو کہ ہے بے چارا ہو خود کشتئہِ پیکانِ فراق

جس کے ارمان لٹے ، جس کی امیدیں ٹوٹیں
جس کے گلشن کا حسیں پھول اجل نے توڑا
موت کے سامنے جو بے بس و لاچار ہوا
جس کے ساتھی نے بھری دنیا میں تنہا چھوڑا

جسکا ہمدرد نہ مونس نہ کوئی ہمدم تھا
ایسے بے مایہ تہی دست سے جلتے کیوں ہو
اسکی ہستی تو کسی رشک کے قابل ہی نہ تھی
یونہی ان کانٹوں بھری راہوں پہ چلتے کیوں ہو

عمر بھر اسکو تو تسکین کی دولت نہ ملی
یوں تو کہنے کو اسے کہتے ہیں سب شاہِ جہاں
اسکے اندر بھی کبھی جھانک کے دیکھا تم نے
اسکی دنیا تھی کہ رِستے ہوئے زخموں کا جہاں

جب زمانے میں نہ اسکو کوئی غمخوار ملا
اس نے مر مر کو ہی ہمراز بنانا چاہا
اہلِ دنیا سے نہ ھب اس نے محبت پائی
اس نے پھر گمشدہ چاہت کو ہی پانا چاہا

تھا یہ تنہائی کا احساس ہی اسکے جس نے
سنگِ مرمر کا حسیں ڈھیر لگا ڈالا تھا
ناگ تنہائی کے ڈستے رہے اس کو آ کر
وہ کہ جو پیار کا شیدائی تھا دل والا تھا

اصل شئے جذبہ ہے ،گو وہ کسی سانچے میں ڈھلے
تاج کیا ہے ؟ یہ فقط پیار کا اظہار تو ہے
سنگِ مر مر کی زباں میں یہ کہا تھا اس نے
تُو نہیں آج مگر زندہ تیرا پیار تو ہے

تاج اک جذبہ ہے پھر جذبے سے نفرت کیسی
یاں تو ہر دل میں کئی تاج محل ہیں موجود
تاج اک سوئے ہوئے پیار کا ہی نام نہیں
یہ وہ دنیا ہے نہیں جس کی فضائیں محدود

تاج اک ماں کی محبت ہے بہن کا دل بھی
باپ کا بیٹے کا، بھائی کا حسیں پیار بھی ہے
تاج اک دوست کا بے لوث پیامِ اخلاص
تاج عشق بھی ہے، معشوق بھی دلدار بھی ہے

اس سے بڑھ کر بھی حسیں ہوتے ہیں شہکار یہاں
تاج کو دیکھ کے تُو اے دلِ مضطر نہ مچل
ماں کے دل سے تو ہمیشہ یہ صدا آتی ہے
میرے بچے پہ ہوں قربان کئی تاج محل

– – – – – –

(صاحبزادی امتہ القدوس بیگم)

Comments (2)

تنزل

مجھے نہیں معلوم میرا انجام کیا ھو گا؟ جس تیز روی سے میں تنزلی کی طرف جا رہا ھوں اکثر لوگوں کا خیال ھے کہ دل و دماغ کے لئے مہلک ثابت ھوتی ھے۔ مجھے خود بھی اس بات کا یقین ھے، میں ہمیشہ سے اس کا قائل رھا ھوں۔ لیکن میں سوائے اس کے کیا کہہ سکتا ھوں کہ میں بے بس ھوں۔ میں مجبور ھوں۔ میں اپنے آپ کو نہیں روک سکتا۔ ایک زبردست کشش، ایک ہمہ گیر جاذبیت مجھے ھلاکت اور پستی کی طرف کھینچے لیے جا رھی ھے۔

آہ! بہت تھوڑے عرصے کا ذکر ھے کہ میں اپنے آپ کو نہایت عالی مقام پاتا تھا۔ میرا مطمع نظر اور میرا دائرہ افق اس قدر وسیع تھا کہ اس پر ظر ڈالتے ھوئے میرا دماغ چکر کھاتا تھا۔ مجھے صرف عالی نگاہ لوگ دیکھ سکتے تھے اور میں کوتاہ بینوں سے مامون تھا۔ اب میری یہ حالت ھے کہ کسی اور کو تو کیا، میں خود اپنے آپ کا مطالعہ نہیں کر سکتا۔

مجھے معلوم ھے کہ بہت عرصہ گزرنے نہیں پائے گا جب میرے حسیات فنا ھو جائیں گے ۔ شاید میرے حواس مجھے جواب دے جائیں۔ میں اپنے آپ کو زندہ کہتا ھوں لیکن حقیقت یہ ھے کہ مردوں سے بدتر ھوں کیونکہ جو شخص مر جاتا ھے وہ کہیں نہ کہیں ٹھکانے تو لگ جاتا ھے اور میرا حال یہ ھے کہ دنیا میں کوئی سہارا نہیں ۔ آرام اور سکون مرے لئے نا ممکنات سے ھیں ۔ نہ مجھے اس وقت کوئی ناصح مفید ھو سکتا ھے اور نہ میں خود ھی اپنی رہنمائی کر سکتا ھوں ۔ چارہ گر کو مجھ پر رحم آ سکتا ھے لیکن اسے میرے نزدیک آنے کی ہمت نہیں پڑ سکتی – زندگی میں یہ ایک ۔۔۔۔۔ صرف ایک لغزش کا نتیجہ ھے ۔

آپ نہیں سمجھے؟ خوب ! بات یہ ھے کہ میں جامع مسجد کے مینار سے گر رہا ھوں ۔

(کلیات ِ پطرس)

Comments (5)

ایسے ہو جائیں گے ایسا تو کبھی سوچا نہ تھا

تھی جلن بیشک مگر تکلیف دہ چھالا نہ تھا

سوز ایسا نہ تھا جب تک آبلہ پھوٹا نہ تھا

اب تو خود مجھ سے مری اپنی شناسائی نہیں

آئینے میں میَں نے یہ چہرہ کبھی دیکھا نہ تھا

وقت کے ہاتھوں نے یہ کیسی لکیریں ڈال دیں

ایسے ہو جائیں گے ایسا تو کبھی سوچا نہ تھا

موسمِ گل میں تھا جس ٹہنی پہ پھولوں کا حصار

جب خزاں آئی تو اس پہ ایک بھی پتا نہ تھا

پیار کے اک بول نے آنکھوں میں ساون بھر دئیے

اس طرح تو ٹوٹ کے بادل کبھی برسا نہ تھا

خامشی سے وقت کے دھارے پہ خود کو ڈال دوں

سامنے میرے کوئی اسکے سوا رستہ نہ تھا

کوئی مجھ کو نہ سمجھ پایا تو کیا شکوہ، مگر

آپ سے تو میرے احساسات کا پردہ نہ تھا

درمیاں میں اجنبیت کی تھی اک دیوار سی

جب تلک میں نے اسے، اُس نے مجھے پرکھا نہ تھا

چاند کو تکتے ہوئے گزریں کئی راتیں مگر

میرے ذہن و فکر میں تسکین تھی سودا نہ تھا

وقت نے کیسے چٹانوں میں دراڑیں ڈال دیں

رو دیا وہ بھی کہ جو پہلے کبھی رویا نہ تھا

جانے کیوں دل سے مرے اسُکی کسک نہیں جاتی

بات گو چھوٹی سی تھی اور وار بھی گہرا نہ تھا

کس لئیے احباب نے تیروں کی زد پہ لے لیا

میں نے تو دشمن کا بھی لوگو بُرا چاہا نہ تھا

(صاحبزادی امتہ القدوس بیگم)

Comments (4)