خوشحال سے تُم بھی لگتے ہو

خوشحال سے تُم بھی لگتے ہو

یوں افسردہ تو ہم بھی نہیں

پر جاننے والے جانتے ہیں

خوش تم بھی نہیں خوش ہم بھی نہیں

تم اپنی خودی کے پہرے میں

ہم اپنے زعم کے نرغے میں

انا ہاتھ ہمارے پکڑے ہوئے

اک مدت سے غلطاں پیچاں

ہم اپنے آپ سے الجھے ہوئے

پچھتاوں کے انگاروں میں

محصورِ تلاطم آج بھی ہیں

گو تم نے کنارے ڈھونڈ لیئے

طوفاں سے سنبھلے ہم بھی نہیں

کہنے کو سہارے ڈھونڈ لیئے

خاموش سے تم، ہم مہر بہ لَب

جگ بیت گئے ٹُک بات کیئے

سنو کھیل ادھورا چھوڑتے ہیں

بِنا چال چلے بِنا مات دیئے

جو چلتے چلتے تھک جایئں

وہ سائے رک بھی سکتے ہیں

چلو توڑو قسم اقرار کریں

ہم دونوں جھک بھی سکتے ہیں

(خلیل اللہ فاروقی)

Advertisements

8 تبصرے »

  1. ???? said

    بی بی ۔ اس کو انگریزی میں کہتے ہیں کنفیوزڈ اور اردو میں کہتے ہیں خبط الحواس ۔ پتا نہیں کہاں کہاں سے ایسی چیزیں ڈھونڈ کے لے آتی ہو ۔ لوگ پہلے ہی حالات کی وجہ سے مخبوط بنے بیٹھے ہیں ۔

    اردو میڈیم کے ایک طالب علم نے کچھ انکشاف کیا ہے ۔ ذرا دیکھو تو یہ اردو میڈیم طالب علم کیا کہتا ہے ۔
    http://hypocrisythyname.blogspot.com/2005/06/urdu-medium-school.html

  2. A Good URDU Blog i would say!!! Waisay i posted on this post cos this Ghazal starts with my name "Khushal” tu soch kyun na anee hazree laga loon!!!!;)

  3. Asma Mirza said

    YEAH U R VERY MUCH WELCOMED HERE 🙂

    uppph my caps lock!!!!

  4. Thanks for a critical kinda comment on my Blog~~~ Sister it started as a personal one but since i am a fazool admi with no social life ,i converted it to AdSense infpo centre,so offcourse i have to talk about AdSense only;)

  5. essjee said

    hmmm!!! but it is very difficult to let go with this ego part. easy to write but usually none of use find the courage to bend. jhukna azab he or yehi azab kamyabi.

  6. Asma Mirza said

    @Khushaal Khan 🙂

    @ EssJee: Very much right ; ego is the most dearest and at sometimes the most problem some part of one’s life!!

    Thanks for visiting!

  7. ××× اک نظم ×××
    گفتگو کے لمحوں میں
    دیکھ ہی نہیں پاتے
    ہم تمہارے چہرے کو
    تم ہماری آنکھوں کو
    آج ایسا کرتے ہیں
    چشم و لب کو پرھتے ہیں
    بات چھوڑ دیتے ہیں

    جانے کیا لمحہ ہوگا
    جب یہ ہاتھ ہاتھوں سے
    گر کبھی جدا ہوگا
    آج ایسا کرتے ہیں ضبط جاں پرکھتے ہیں
    ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں

    کاش کوئی سمجھادے
    لوگ کس طرح دل کی
    منزلیں الگ کرکے
    ساتھ چھوڑ دیتے ہیں
    آج ایسا کرتے ہیں
    بے سبب بکھرتے ہیں
    ذات توڑ دیتے ہیں

  8. Salam!Sis i am the same Khushal”AdSense Wala” i am here to ask if i could post the Khushal wali ghazal on my personal blog here that i started few days back http://www.funbie.com/blog and also wanted to learn this URDU typing thing!!! hope you will reply on my new blog! Fi Amanullah!

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: