Archive for جولائی, 2005

محبتیں جب شمار کرنا

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا

جو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا

جلائےرکھوں گی صبح تک میں تمھارے رستےمیں اپنی آنکھیں

مگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا

جو حرف لوحِ وفا پہ لکھے ہوئے ہیں ان کو بھی دیکھ لینا

جو رائیگاں ہو گئیں وہ ساری عبادتیں بھی شمار کرنا

یہ سردیوں کا اداس موسم کہ دھڑکنیں برف ہو گئ ہیں

جب ان کی یخ بستگی پرکھنا، تمازتیں بھی شمار کرنا

تم اپنی مجبوریوں کے قِصے ضرور لکھنا وضاحتوں سے

جو میری آنکھوں میں جَل بجھی ہیں، وہ خواہشیں بھی شمار کرنا

(نوشی گیلانی)

Advertisements

Comments (5)

ہوئی تاخیر

ہوئی تاخیر تو کچھ باعثِ تاخیر بھی تھا
آپ آتے تھے مگر کوئی عناں گیر بھی تھا

تم سے بیجا ہے مجھے اپنی تباہی کا گلہ
اُس میں کچھ شائبہ خوبیِ تقدیر بھی تھا

تو مجھے بھول گیا ہو تو پتہ بتلا دوں
کبھی فتراک میں ترے کوئی نخچیر بھی تھا

قید میں بھی ترے وحشی کو وہی زُلف کی یاد
ہاں کچھ اِک رنجِ گرانباری زنجیر بھی تھا

بجلی اک کوند گئی آنکھوں کے آگے تو کیا
بات کرتے کہ میں لبِ تشنہءِ تقریر بھی تھا

یوسف اس کو کہوں اور کچھ نہ کہے خیر ہوئی
گر بگڑ بیٹھے تو میں لائقِ تعزیر بھی تھا

دیکھ کر غیر کو ہو کیوں نہ کلیجہ ٹھنڈا
نالہ کرتا تھا ولے طالبِ تاثیر بھی تھا

پیشے میں عیب نہیں،رکھیے نہ فرہاد کونام
ہم ہی آشفتہ سروں میں وہ جواں میر بھی تھا

ہم تھے مرنے کو کھڑے پاس نہ آیا نہ سہی
آخر اس شوخ کے ترکش میں کوئی تیر بھی تھا

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی کوئی ہمارا دمِ تحریر بھی تھا

ریختی کے تمہی استاد نہیں ہو غالب
کہتے ہیں اگلے زمانے میں کوئی میر بھی تھا

(میرزا اسد اللہ خاں غالب دہلوی)

تبصرہ کریں

اندازِ بیاں

تمہارے ھاں آب و ھوا کس قسم کی ھے؟ وھاں کے ذرائع آمد و رفت ، برآمد و درآمد ، ذرائع معاش بیان کرو“ ۔ ایک صاحب جو جغرافیے کے استاد تھے بولے ۔

“جہاں میرا گھر ھے وھاں کی آب و ھوا ایسی عجیب ھے کہ نہ آب کا یقین ھے نہ ھوا کا اعتبار ۔ صبح لو چل رھی ھے تو شام کو برف پڑ رھی ھے ۔ مشہور تھا کہ ایک رات اتنی سردی پڑی کہ سڑکوں پر ایستادہ آہنی مجسمے کانپنے لگے اور انہوں نے اپنے ھاتھ اپنی جیبوں میں چھپا لیے ۔ ایک برف کا بنا ھوا مجسمہ بھاگ کر سامنے کے مکان میں جا چھپا ۔ ایک روز برف باری ھوئی ۔ میں اپنے بھائی کے ساتھ باہر گیا ۔ اچانک اتنی تیز دھوپ نکلی کہ ھم باری باری ایک دوسرے کے سائے میں بیٹھے تھے ۔ ایک اور واقعہ مشہور ھے ۔ ھمارے گاؤں کے باھر ایک جھیل ھے ۔ ایک تیراک نے اونچی چوٹی سے اس میں چھلانگ لگائی ۔ذرا نیچے آ کر اسے پتا چلا کہ پانی خشک تھا اور پتھر نظر آ رھے تھے ۔ وہ بڑا سٹپٹایا ۔ دیکھتے دیکھتے ایک بادل آیا ، برسا اور جھیل میں پانی بھر گیا ۔ لیکن اتنی سردی ھو گئی کہ پانی یخ ھو گیا ۔ چھلانگ لگانے والے کا اور بھی برا حال ھو گیا ۔ دفعتہً سورج نکل آیا ، فوراً برف پگھل گئی اور اس نے چھلانگ ن پانی میں لگائی ۔ لیکن جب وہ کنارے پر پہنچا تو اتنی گرمی ھو گئی تھی کہ اسے سرسام ھو گیا ۔

شفیق الرحمان کی حماقتیں سے اقتباس

Comments (8)

بڑا دشوار ہوتا ہے

بڑا دشوار ہوتا ہے

ذرا سا فیصلہ کرنا

کہ جیون کی کہانی کو

بیانِ بے زبانی کو

کہاں سے یاد رکھنا ہے

کہاں سے بھول جانا ہے

اِسے کتنا بتانا ہے

اِسے کتنا چھپانا ہے

کہاں رو رو کے ہنسنا ہے

کہاں ہنس ہنس کے رونا ہے

کہاں آواز دینی ہے

کہاں خاموش رہنا ہے

کہاں رَستہ بدلنا ہے

کہاں سے لوَٹ آنا ہے

(سلیم کوثر)

فائزہ سے شکریہ کے ساتھ، والسلام

اسماء

Comments (5)

(بيان پالتو جانورں کا (تحرير ابنِ انشاء

بھیڑ

بھیڑ کی کھال مشہور ہے، بھیڑ کی چال مشہور ہے اور بھیڑ کا مآل بھی مشہور ہے۔ بہت کم بھیڑیں عمرِ طبعی کو پہنچتی ہیں۔

جو رشتہ شیر بکری سے ہم نے بیان کیا ہے، وہی رشتہ بھیڑ کا بھیڑیے سے ہے۔ بھیڑیں کئی طرح کی ہوتی ہیں۔ سفید بھیڑیں، کالی بھیڑیں وغیرہ، لیکن بھیڑیا سب کو ایک نظر سے دیکھتا ہے اور یکساں چاہت سے لقمہ بناتا ہے۔

اِس جانور میں قربانی کا مادہ بہت ہوتا ہے اور انسان اس مادے سے بہت فائدہ اُٹھاتا ہے۔ گوشت کھا جاتا ہے، کھال بیچ دیتا ہے۔

بکری

گرچہ چھوٹی ہے ذات بکری کی، لیکن دودھ یہ بھی دیتی ہے۔ عام طور پرصرف دودھ دیتی ہے لیکن مجبور کریں تو کچھ منگنیاں بھی ڈال دیتی ہے۔

جن بکریوں کو شہرتِ عام اور بقائے دوام میں جگہ ملی ہے، ان میں ایک گاندھی جی کی بکری تھی اور ایک اخفش نامی
بزرگ کی، روایت ہے کہ وہ بکری نہیں بکرا تھا، معقول صورت۔ یہ جو شاعری میں اوزان اور بحروں کی بدعت ے۔ یہ اخفش صاحب سے ہی منسوب کی جاتی ہے۔ بیٹھے فاعلاتن فاعلات کیا کرتے تھے، جہاں شک ہو تصدیق کے لئے بکرے سے پوچھتے تھے کہ کیوں حضرت ٹھیک ہے نہ؟ وہ بکرا اللہ اُسے جنت میں یعنی جنت والوں کے پیٹ میں جگہ دے، سر ہلا کر ان کی بات پر صاد کر دیتا تھا۔ اس بکرے کی جسل بہت پھیلی، پاکستان میں بھی پائی جاتے ہے۔ سوتے جاگتے اس کے منہ سے یس سر، یس سر، جی حضور، بجافرمایا وغیرہ نکلتا رہتا ہے۔ اسے بات سننے اور سمجھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔

جن ملکوں میں بہت انصاف ہو ان میں شیر اور بکریاں ایک گھاٹ پر پانی پینے لگتی ہیں، جس طرح علامہ اقبال کے ایک شعر میں محمود اور ایاز ایک صف میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اس میں فائدہ یہ ہے کہ شیر پانی پینے کے بعد وہیں بکری کو دبوچ لیتا ہے، اُسے ناشتے کے لئے زیادہ دور نہیں جانا پڑتا۔

گدھا

گدھا بڑا مشہور جانور ہے۔ گدھے دو طرح کے ہوتے ہیں،چار پاؤں والے اور دو پاؤں والے۔ سینگ ان میں کسی کے
سر پر نہیں ہوتے۔ آج کل چار پاؤں والے گدھوں کی نسل گھٹ رہی ہے دو پاؤں والوں کی بڑھ رہی ہے۔ گھوڑے کی شکل ایک حد تک گدھے سے ملتی ہے، بعض لوگ گدھے گھوڑے کو برابر سمجھنے کی غلطی کر بیٹھتے ہیں۔ دونوں کہ ایک تھان پر باندھتے ہیں، یا ایک لاٹھی سے ہانکنا شروع کر دیتے ہیں۔ اگر گدھا اس پر اعتراض کرے تو کہتے ہیں، سنو ذرا اس گدھے کی باتیں۔ سوچنے کی بات ہے اگر گھوڑا کسی لائق ہوتا تو حضرت عیسی اس پر سواری نہ کرتے، گدھے کو کیوں پسند کرتے؟ شاعروں نے بھی گدھے کی ایک خوبی کی تعریف کی ہے۔ خرِ عیسٰی ہو یا کوئی اور گدھا اگر وہ مکہ بھی ہو آئے تو گدھا ہی رہتا ہے۔ دوسرے جانور بشمول آدمی تو اپنی اصل بھول جاتے ہیں، واپس آکر القاب کے دُم چھلے لگاتے ہیں۔

معلوم ہوتا ہے ایک زمانے میں گدھوں کی مشابہت گھوڑوں کی بجائے آدمیوں سے زیادہ ہوتی تھی۔ غالب اپنے محبوب کے دروازے پر کسی کام سے گئے اُس کا پاسبان یعنی دربان ان کو حضرت عیسی کی سواری کا جانور سمجھ کر بوجہ احترام چُپ رہا، لیکن جب اُنھوں نے کنوتیاں جھاڑ کر اس کے قدم لینے کی کوشش کی تو سمجھ گیا کہ یہ تو نجم الدولہ دبیرالُملک مرزا اسد اللہ خاں بہادر ہیں۔ چناچہ کماحقہ بد سلوکی کی۔

Comments (4)