محبتیں جب شمار کرنا

محبتیں جب شمار کرنا تو سازشیں بھی شمار کرنا

جو میرے حصے میں آئی ہیں وہ اذیتیں بھی شمار کرنا

جلائےرکھوں گی صبح تک میں تمھارے رستےمیں اپنی آنکھیں

مگر کہیں ضبط ٹوٹ جائے تو بارشیں بھی شمار کرنا

جو حرف لوحِ وفا پہ لکھے ہوئے ہیں ان کو بھی دیکھ لینا

جو رائیگاں ہو گئیں وہ ساری عبادتیں بھی شمار کرنا

یہ سردیوں کا اداس موسم کہ دھڑکنیں برف ہو گئ ہیں

جب ان کی یخ بستگی پرکھنا، تمازتیں بھی شمار کرنا

تم اپنی مجبوریوں کے قِصے ضرور لکھنا وضاحتوں سے

جو میری آنکھوں میں جَل بجھی ہیں، وہ خواہشیں بھی شمار کرنا

(نوشی گیلانی)

Advertisements

5 تبصرے »

  1. خوب انتخاب کیا ہے

  2. ditto (nice excerpt.)

  3. you have to do something to attract people towards bayaaz….

    …..all of us (team members….)

    *thinking……*

  4. Asma Mirza said

    Harris u can do some contributions too 🙂

  5. Shirazi said

    What can I say, I loved this since the day it was written by Noshi.

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: