Archive for اگست, 2005

بیٹیاں وفاؤں جیسی ہوتی ہیں

تپتی زمیں پر آنسوؤں کے پیار کی صورت ہوتی ہیں

چاہتوں کی صورت ہوتی ہیں

بیٹیاں خوبصورت ہوتی ہیں

دل کے زخم مٹانے کو

آنگن میں اتری بوندوں کی طرح ہوتی ہیں

بیٹیاں پھولوں کی طرح ہوتی ہیں

نامہرباں دھوپ میں سایہ دیتی

نرم ہتھیلیوں کی طرح ہوتی ہیں

بیٹیاں تتلیوں کی طرح ہوتی ہیں

چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں

تنہا اداس سفر میں رنگ بھرتی

رداؤں جیسی ہوتی ہیں

بیٹیاں چھاؤں جیسی ہوتی ہیں

کبھی بلا سکیں، کبھی چھپا سکیں

بیٹیاں اَن کہی صداؤں جیسی ہوتی ہیں

کبھی جھکا سکیں، کبھی مٹا سکیں

بیٹیاں اناؤں جیسی ہوتی ہیں

کبھی ہنسا سکیں، کبھی رلا سکیں

کبھی سنوار سکیں، کبھی اجاڑ سکیں

بیٹیاں تو تعبیر مانگتی دعاؤں جیسی ہوتی ہیں

حد سے مہرباں، بیان سے اچھی

بیٹیاں وفاؤں جیسی ہوتی ہیں

والسلام

اسماء

Advertisements

Comments (6)

ہجرت کا دکھ

محبتوں جیسا ، چاہت سا دکھ ہے

سکون کی طرح، راحت سا دکھ ہے

یہ دکھ ہجرت کا، مسافرت کا دکھ ہے

مہاجر پرندوں کا، یہ بدلتی رُت کا دکھ ہے

فصیلِ جاں میں ٹھہرتا ہوا سا، رکتا سا دکھ ہے

اجنبی دیسوں کے لئیے اذنِ سفر ہو

کہ اجنبی چہروں کا ساتھ

یہ ہر شہر کا دکھ ہے

یہ ہر گھر کا دکھ ہے

بہار کے موسم میں رونے کا

خزاں میں ہنسنے کا دکھ ہے

یہ ہر تتلی کا دکھ ہے

یہ ہر بیٹی کا دکھ ہے ۔۔۔۔۔۔

کچھ دن پہلے تین نظمیں میری نظر سے گزریں، یہ ان میں سے ایک ہے۔ گو کہ شاعر کا تو نہیں پتا لیکن تینوں ہی بیٹی کے ہجر سے گزری بے حد خوبصورت احساسات کو ظاہر کر رہی ہیں۔مجھے اچھی لگی ۔۔۔ شاید آپ کو بھی!

,والسلام

اسماء

Comments (3)

غزل

جب بھی مجھے آمد ہوتی ہے
بیگم میری بجنگ آمد ہوتی ہے

بڑھاپے کی نشانی صدا یاد رکھنا
بیوی گھر میں خاوند ہوتی ہے

محبت نہیں پابند کسی اصول کی
یہ بن کسٹم کے برآمد ہوتی ہے

پتھر دلوں کو پل میں موم کرے
ہایے کیا چیز خوشامد ہوتی ہے

کمر بستہ ہو جاو واہ واہ کرنے والو
محفل میں شاعر کی آمد ہوتی ہے

Comments (7)

مرے ھمدم ، مرے دوست

گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست
گر مجھے اس کا یقین ھو کہ ِترے دل کی تھکن
تیری آنکھوں کی اداسی ، ترے سینے کی جلن
میری دل جوئی ، مرے پیار سے مٹ جائے گی
گر مرا حرفِ تسلّی وہ دوا ھو جس سے
جی اٹھے پھر ترا اجڑا ھوا بے نور دماغ
تیری پیشانی سے دھل جائیں یہ تذلیل کے داغ
تیری بیمار جوانی کو شفا ھو جائے
گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست
روز و شب ، شام و سحر میں تجھے بہلاتا رھوں
میں تجھے گیت سناتا رھوں ھلکے ، شیریں
آبشاروں کے بہاروں کے ، چمن زاروں کے گیت
آمدِ صبح کے ، مہتاب کے ، سیّاروں کے گیت
تجھ سے میں حسن و محبت کی حکایات کہوں
کیسے مغرور حسیناؤں کے برفاب سے جسم
گرم ھاتھوں کی حرارت میں پگھل جاتے ھیں
کیسے اک چہرے کے ٹھہرے ھوئے مانوس نقوش
دیکھتے دیکھتے یک لخت بدل جاتے ھیں
کس طرح عارضِ محبوب کا شفّاف بلور
یک بیک بادہِ احمر سے دہک جاتا ھے
کیسے گلچیں کے لئے جھکتی ھے خود شاخِ گلاب
کس طرح رات کا ایوان مہک جاتا ھے
یونہی گاتا رھوں ، گاتا رھوں تیری خاطر
گیت ُبنتا رھوں، بیٹھا رھوں تیری خاطر
پر مرے گیت ترے دکھ کا ُمداوا ھی نہیں
نغمہ جرّاح نہیں، مونس و غم خوار سہی
گیت نشتر تو نہیں ، مرھم ِ آزار سہی
تیرے آزار کا چارہ نہیں، نشتر کے سوا
اور یہ سفّاک مسیحا مرے قضے میں نہیں
اس جہاں کے کسی ذی روح کے قبضے میں نہیں
ھاں مگر تیرے سوا ، تیرے سوا ، تیرے سوا

فیض احمد فیض

یہ نظم پڑھنے میں اتنا مزا نہیں آتا جتنا سننے میں آتا ھے

!آڈیو حاصل کرنے کے لیئے مجھے میل کریں

Comments (5)

آہ

ایک روز اچانک

وہ سرِ راہ ملی تو

میرے ٹوٹے دل سے

اک آہ نکلی تو

میں نے اس سے پوچھا

بتا کیسی ھے تو

رو پڑی وہ دکھا کے مجھے

اپنے ھاتھوں کی مہندی

Comments (7)

وہ جو شہرِ دل تھا اُجڑ گیا

وہ جو شہرِ دل تھا اُجڑ گیا

وہ جو خواب تھا بکھر گیا

کبھی موسموں کی نظر لگی

کبھی وہموں نے ڈرا دیا

کبھی زندگی کی کتاب سے

ہمیں جس نے چاہا مٹا دیا

بس اسی لئیے، وہ جو جا رہا تھا دور تک

اُسے دیکھتے ہی رہے مگر، نہیں دی صدا

اسے روکتے بھی تو کس لئیے؟

اسے روکتے بھی تو کس لئیے؟

سمیرا گل سے شکریہ کے ساتھ، جن کے بلاگ پہ یہ خوبصورت نظم میں نے پہلی دفعہ پڑھی۔ اگر پہلے پوسٹ کر دی ہو تو معذرت۔

,والسلام

اسماء

Comments (2)

نظم

گفتگو کے لمحوں میں

دیکھ ہی نہیں پاتے

ہم تمہارے چہرے کو

تم ہماری آنکھوں کو

آج ایسا کرتے ہیں

چشم و لب کو پڑھتے ہیں

بات چھوڑ دیتے ہیں

جانے کیا لمحہ ہوگا

جب یہ ہاتھ ہاتھوں سے

گر کبھی جدا ہوگا

آج ایسا کرتے ہیں

ضبطِ جاں پرکھتے ہیں

ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں

کاش کوئی سمجھادے

لوگ کس طرح دل کی

منزلیں الگ کرکے

ساتھ چھوڑ دیتے ہیں

آج ایسا کرتے ہیں

بے سبب بکھرتے ہیں

ذات توڑ دیتے ہیں

!شفقت خان سے شکریہ کے ساتھ

Comments (1)

Older Posts »