نظم

گفتگو کے لمحوں میں

دیکھ ہی نہیں پاتے

ہم تمہارے چہرے کو

تم ہماری آنکھوں کو

آج ایسا کرتے ہیں

چشم و لب کو پڑھتے ہیں

بات چھوڑ دیتے ہیں

جانے کیا لمحہ ہوگا

جب یہ ہاتھ ہاتھوں سے

گر کبھی جدا ہوگا

آج ایسا کرتے ہیں

ضبطِ جاں پرکھتے ہیں

ہاتھ چھوڑ دیتے ہیں

کاش کوئی سمجھادے

لوگ کس طرح دل کی

منزلیں الگ کرکے

ساتھ چھوڑ دیتے ہیں

آج ایسا کرتے ہیں

بے سبب بکھرتے ہیں

ذات توڑ دیتے ہیں

!شفقت خان سے شکریہ کے ساتھ

Advertisements

1 تبصرہ »

  1. You are alway welcome…

    ek Shair!!!

    Jesa k mera khwab hey is tarah terey saath
    ek Shaam guzar jaey tau ek shaam bohot hey

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: