غزل

جب بھی مجھے آمد ہوتی ہے
بیگم میری بجنگ آمد ہوتی ہے

بڑھاپے کی نشانی صدا یاد رکھنا
بیوی گھر میں خاوند ہوتی ہے

محبت نہیں پابند کسی اصول کی
یہ بن کسٹم کے برآمد ہوتی ہے

پتھر دلوں کو پل میں موم کرے
ہایے کیا چیز خوشامد ہوتی ہے

کمر بستہ ہو جاو واہ واہ کرنے والو
محفل میں شاعر کی آمد ہوتی ہے

Advertisements

7 تبصرے »

  1. واہ واہ

  2. Dinky Mind said

    wah…zabardast

  3. Asma Mirza said

    خوش آمدید

  4. شکريھ

  5. کیا تعریف کروں کہیں خوشآمد کے ضمرے میں ہی نہ آ جائے۔۔

    اچھی پوسٹ ہے۔ ویلکم ٹو دا بیاض فیملی۔

  6. اچھی نظم ہے۔۔۔۔۔خوب

  7. urdudaaN said

    کمال کردیا آپ نے!

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: