ہجرت کا دکھ

محبتوں جیسا ، چاہت سا دکھ ہے

سکون کی طرح، راحت سا دکھ ہے

یہ دکھ ہجرت کا، مسافرت کا دکھ ہے

مہاجر پرندوں کا، یہ بدلتی رُت کا دکھ ہے

فصیلِ جاں میں ٹھہرتا ہوا سا، رکتا سا دکھ ہے

اجنبی دیسوں کے لئیے اذنِ سفر ہو

کہ اجنبی چہروں کا ساتھ

یہ ہر شہر کا دکھ ہے

یہ ہر گھر کا دکھ ہے

بہار کے موسم میں رونے کا

خزاں میں ہنسنے کا دکھ ہے

یہ ہر تتلی کا دکھ ہے

یہ ہر بیٹی کا دکھ ہے ۔۔۔۔۔۔

کچھ دن پہلے تین نظمیں میری نظر سے گزریں، یہ ان میں سے ایک ہے۔ گو کہ شاعر کا تو نہیں پتا لیکن تینوں ہی بیٹی کے ہجر سے گزری بے حد خوبصورت احساسات کو ظاہر کر رہی ہیں۔مجھے اچھی لگی ۔۔۔ شاید آپ کو بھی!

,والسلام

اسماء

Advertisements

3 تبصرے »

  1. T M said

    aaala

  2. خوب نظم ہے!۔

  3. Dinky Mind said

    amazing

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: