بیٹیاں وفاؤں جیسی ہوتی ہیں

تپتی زمیں پر آنسوؤں کے پیار کی صورت ہوتی ہیں

چاہتوں کی صورت ہوتی ہیں

بیٹیاں خوبصورت ہوتی ہیں

دل کے زخم مٹانے کو

آنگن میں اتری بوندوں کی طرح ہوتی ہیں

بیٹیاں پھولوں کی طرح ہوتی ہیں

نامہرباں دھوپ میں سایہ دیتی

نرم ہتھیلیوں کی طرح ہوتی ہیں

بیٹیاں تتلیوں کی طرح ہوتی ہیں

چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں

تنہا اداس سفر میں رنگ بھرتی

رداؤں جیسی ہوتی ہیں

بیٹیاں چھاؤں جیسی ہوتی ہیں

کبھی بلا سکیں، کبھی چھپا سکیں

بیٹیاں اَن کہی صداؤں جیسی ہوتی ہیں

کبھی جھکا سکیں، کبھی مٹا سکیں

بیٹیاں اناؤں جیسی ہوتی ہیں

کبھی ہنسا سکیں، کبھی رلا سکیں

کبھی سنوار سکیں، کبھی اجاڑ سکیں

بیٹیاں تو تعبیر مانگتی دعاؤں جیسی ہوتی ہیں

حد سے مہرباں، بیان سے اچھی

بیٹیاں وفاؤں جیسی ہوتی ہیں

والسلام

اسماء

Advertisements

8 تبصرے »

  1. بے شک۔

    بیٹیاں واقعی رحمت ہوتی ہیں
    اور بہنوں کے طور پر بھی بھائیوں کا کتنا خیال رکھتی ہیں۔

    اسماء where didja get these nice excerpts?

  2. This post has been removed by the author.

  3. بہت خوب اسماء اور کيا يہ آپ کی اپنی شاعری ہے؟

  4. اجمل said

    اپنے منہ میاں مٹھو بننا اچھی بات نہیں آپ جیسی اچھی لڑکی کے لئے ۔ ہم کس لئے ہیں ؟ بس اک چھوٹا سا اشارہ کردیا کیجئے ۔ پھر دیکھئے بیٹیوں کے حق میں کیسی دل میں اتنے والی تحریر لکھتے ہیں ۔ آزمائش شرط ہے ۔

  5. اسلام علیکم
    بہت خوب ، کیا بات ہے ، بہت ہی خوبصورت نظم ہے بہت ہی اچھی لگی کیونکہ آج میری پیاری بیٹی سارہ منیر کی سالگرہ بھی جی کہ اللہ کے فضل و کرم سے پورے ایک سال کی ہو گئ ہے۔

  6. Asma Mirza said

    حارث: بالکل صحیح کہہ رہے ہو ، بس کہیں سے مل ہی جاتے ہیں ایسے اقتباسات۔

    جہانزیب: توبہ کریں، شاعر کا نام تو نہیں پتہ ۔۔ پڑھے تھے کہیں

    اجمل انکل: نہیں یہ میاں مٹھو نہیں شاعری ہے ۔۔۔ کسی کی جسے بیاض میں جگہ دی ہے

    منیر احمد طاہر: اللہ آپ کی بیٹی کو قرہ ت العین بنائے اور رحمت بھی۔

  7. محمد معراج said

    ایک نظم جو میں نے اپنی پیاری بیٹی عفیفہ فرح کی ہائی سکول گریجویش پر تحریر کی تھی۔ میری شعری زندگی کی اولین تخلیق ۔ کالج کے زمانے میں بھی کچھ اشعار کہے تھے ۔لیکن سب بھول بھلا گئے۔

    عفیفہ فرح کے نام

    بیٹیاں

    بیٹیاں نور نظر دل کی صدا ہوتی ہیں
    بیٹیاں مثل دعا مثل شفا ہوتی ہیں

    تپتے صحراؤں میں یہ باد صبا ہوتی ہیں
    بیٹیاں باپ کی پگھ ماں کی ردا ہوتی ہیں

    فخر کرتی ہیں وہ اقدار پہ اپنے اعلٰی
    بیٹیاں قوموں کے لۓ قبلہ نما ہوتی ہیں

    دل میں رہتی ہیں یہ تاعمر ہو دھڑکن جیسے
    بیٹیاں بھی کبھی سینوں سے جدا ہوتی ہیں

    شمع قندیل میں روشن ہو تو کیا خوب سجے
    بیٹیاں پیاری جو پابند حیا ہوتی ہیں

    کہیں بہنا کہیں اماں کہیں بیوی بن کر
    اپنے ہر روپ میں تصویر الٰہ ہوتی ہیں

    زندگی میں جو کبھی درد کے موسم آئیں
    بیٹیاں ہی تو فقط جاء پناہ ہوتی ہیں

    حرف آنے نہیں دیتی ہیں وفاؤں پہ کبھی
    اپنے ماں باپ کی عصمت پہ فدا ہوتی ہیں

    بیٹیاں نورِ نظر دل کی صدا ہوتی ہیں
    معراج

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: