Archive for ستمبر, 2005

!اپنے آپ کو پہچانو

حکماء کا اصرار ہے کہ اپنے آپ کو پہچانو لیکن تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ اپنے آپ کو مت پہچانو، ورنہ سخت مایوسی ہوگی۔

ایمرسن صاحب فرماتے ہیں انسان جو کچھ سوچتا ہے وہی بنتا ہے۔ کچھ بننا کس قدر آسان ہے، کچھ سوچنا شروع کردو اور بن جاؤ۔

اگر نہ بن سکو تو ایمرسن صاحب سے پوچھو۔

۔۔ شفیق الرحمٰن کی کتاب مزید حماقتیں سے ایک اقتباس ۔۔

Advertisements

Comments (4)

ذرا سی بات

زندگی کے میلے میں، خواہشوں کے ریلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں
اس قدر جھمیلے میں
وقت کی روانی ہے، بخت کی گرانی ہے
سخت بے زمینی ہے، سخت لامکانی ہے
ہجر کے سمندر میں
تخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے
تم کو جو سنانی ہے
بات گو ذرا سی ہے
بات عمر بھر کی ہے
عمر بھر کی باتیں کب دو گھڑی میں ہوتی ہیں
درد کے سمندر میں
اَن گِنت جزیرے ہیں، بے شمار موتی ہیں!
آنکھ کے دریچے میں تم نے جو سجایا تھا
بات اس دیئے کی ہے
بات اس گلے کی ہے
جو لہو کی خلوت میں چور بن کے آتا ہے
لفظ کی فصیلوں پہ ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے
زندگی سے لمبی ہے، بات رَت جگے کی ہے
راستے میں کیسے ہو ۔۔۔
بات تخلیئے کی ہے
تخلیئے کی باتوں میں گفتگو اضافی ہے
پیار کرنے والوں کو اِک نگاہ کافی ہے
ہو سکے تو سن جاؤ ایک دن اکیلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں، اس قدر جھمیلے میں

۔۔ امجد اسلام امجد ۔۔

Comments (2)

مزاح

اس سنجيدہ زندگي ميں حّسِ ِمزاح رکھنے والے دوستوں کا ساتھ غنيمت جاننا چاہۓ۔ ہر وقت کي سنجيدگي آپ پر اور آپ کے اردگرد کے لوگوں پر بعض اوقات اداسي کي چادر تان ديتي ہے۔ ان لوگوں نے لمبي عمر پائي ہے جن کو ہنسنے کا فن آتا تھا۔کتنے دنوں سے ہم سنجيدہ موضوع پکڑے ہوۓ ہيں آج ہم نے سوچا ذرا انداز بدلہ جاۓ۔
ہمارے چند مہرباں مزاحيہ طبيعت سے مالا مال دوست ہيں۔ اپني زندگي کے چند جوشگوار لمحے جو انہي مہربانوں کي عنائت ہيں ہم آپ کے ساتة بانٹتے ہيں۔
ايک دفعہ ہميں شرارت سوجھي اور ہم نے ايک منجھے ہوۓ شاعر کي صدارت ميں مشاعرے کا پرگرام بنايا اور اس کو اس مشاعرے کي دعوت دينے اس کے گھر پہيچ گۓ۔ بڑي منتوں کے بعد وہ شاعر صاحب راضي ہوۓ اور کہنے لگے ٹھيک ہے ميں آپ کے مشاعرے کي دعوت قبول کرتا ہوں اور اس فقرے پر اپني بات ختم کي کہ اگر قيامت نہ آئي تے ميں ضرور آواں گا۔ يہ سننے کے بعد ہمارے ايک دوست کي حّسِ مزاح پھڑکي اور اس نے اس فقرے پر شعر مکمل کرنے کي اجازت مانگي۔ اجازت ملنے پر وہ پنجاني ميںبولے
چاہ پکائي تے پتي ضرور پاواں گا
قيامت نہ آئي تے ميں ضرور آواں گا
وہ دن اور آج کا دن ہے ہم انتظار کر رہے ہيں اور وہ شاعرآرہے ہيں۔
اسي طرح ايک دفعہ ايک محفل ميں ميزبان اپنے مہمانوں کا تعارف کرارہے تھے اور ايک صاحب کے بارے ميںانہيوں نے کہا کہ
يہ کروڑ پتي ہيں۔
اس کے بعد جب دوسرے صاحب کا تعارف کرانے لگے تو مزاحيہ دوست ايک دم بول پڑے کہ
يہ دودھ پتي ہيں۔
يہ سنتے ہي ساري محفل کھکھلا کر ہنس پڑي۔

Comments (4)

عشق کا کيلنڈر

جب تم سے اتفاقاً ميري نظر ملي تھي

کچھ ياد آرہا ہے شائد وہ جنوري تھي

پھر مجھ سےيوں ملے تھےتم ماہِ فروري ميں

جيسے کہ ہمسفر ہو تم راہِ زندگي ميں

کتنا حسين زمانہ آيا تھا مارچ لے کر

راہِ وفا پہ تھے تم جلتے چراغ لے کر

اس وقت ميرے ہمدم اپريل چل رہا تھا

دنيا بدل رہي تھي موسم بدل رہا تھا

ليکن مئي جو آئي جلنے لگا زمانہ

ہر شخص کي زباں پہ تھا بس يہي فسانہ

دنيا کے ڈر سے تم نے بدلي تھيں جب نگاہيں

تھا جون کا مہينہ لب پہ تھيں گرم آہيں

ماہِ اگست ميں جب برسات ہو رہي تھي

بس آنسوؤں کي بارش دن رات ہو رہي تھي

اس ميں نہيں کوئي شک وہ ماہ تھا ستمبر

بھيجا تھا تم نے مجھ کو ترکِ وفا کا ليٹر

تم غير ہو رہے تھے اکتوبر آ گيا تھا

دنيا بدل چکي تھي موسم بدل چکا تھا

جب آگيا نومبر ايسي بھي رات آئي

مجھ سے تمھيں چھڑانے سج کر بارات آئي

بے کيف تھا دسمبر جزبات مر چکے تھے

ان حادثوں سے ميرے ارماں ٹھٹھر چکے تھے

ليکن ميں کيا بتاؤں اب حال دوسرا ہے

وہ سال دوسرا تھا يہ سال دوسرا ہے

نوٹ ۔ اپني ڈائري سے پراني نظم نقل کي ہے مگر شاعر کا نام ياد نہيں۔ اميد ہے بےنام شاعر کي کاوش پسند آۓ گي۔

Comments (5)

فلسفہِ زندگی

تم واقعی بدل گئے ہو۔ میرے کہنے کا خیال نہ کرنا۔ نصیحت کرنا، دنیا کا آسان تریں کام ہے۔ میں اب تک نصیحتیں کر رہا تھا۔ اگر میں تمھاری جگہ ہوتا تو پتہ نہیں کیا کرتا۔

فلسفی اسپنزا نے مثال دی تھی کی اگر کسی اینٹ کو ہوا میں پھینک دیا جائے اور متحرک اینٹ سے پوچھا جائے کہ کیا کر رہی ہو تو وہ یہی کہے گی کہ میں اپنی مرضی سے نہیں جا رہی ہوں۔ یہی حال انسانوں کا ہے۔ ہم جو کچھ بھی کر رہیں اور جس حال میں ہیں، اسکا سبب وہ واقعات اور حالات ہیں جن پر ہمارا قابو نہیں، جن کی رو ہمیں بہا لے جارہی ہے۔ ہم پر طرح طرح کے دباؤ ہیں، ہم مجبور ہین اور پھر زندگی کا کوئی خاص فارمولا تو ہوتا نہیں۔ کسی خوشبو کا ہلکا سا جھونکا، کسی رنگ کی جھلک، کوئی نغمہ ۔۔۔ یہ بڑے ظالم ہوسکتے ہیں، بھولی بسری یادیں دفعتاً تازہ ہو جاتی ہیں۔ کبھی یہ خعشگوار ہوتی ہیں، کبھی از حد کربناک۔

شفیق الرحمٰن کی کتاب “دجلہ“ سے ایک اقتباس

Comments (4)

غزل

اسے اپنے فردا کی فکر تھی
وہ جو میرا واقف ِ حال تھا
وہ جو اس کی صبح ِ عروج تھی
وہی میرا وقت ِ زوال تھا
وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی
میرے لب پر کوئی گلہ نہ تھا
اسے میری چپ نے رلا دیا
جسے گفتگو پر کمال تھا

(پروین شاکر)

Comments (11)

! کیوں

کبھی کبھی ویران اسٹیشنوں پر رک کر

میں دیکھتا تھا، سوچتا تھا

لمحہ بہ لمحہ دور ہوتی ہوئی ٹرین میں کوئی تمثیل ہے

پر کیا ہے؟ یاد نہیں آتا تھا

اور جب یاد آیا

تو میں نے دیکھا کہ

پٹڑی کے ہاتھ خالی رہ گئے ہیں

سارے اسٹیشن سوالی رہ گئے ہیں

اب مجھے یاد آیا ہے

دور ہوتی ٹرین میں کیا تمثیل ہوتی ہے

مگر مجھے جاننا ہے کہ

میرا دل کیوں سوالی ہے؟

یہ رسم کس نے ڈالی ہے؟

پٹڑی کیوں خالی ہے؟

کیوں بیٹیاں مسافروں کی طرح ہوتی ہیں

کیوں بیٹیاں مسافروں کی طرح ہوتی ہیں؟ ۔۔۔

تو یہ تھیں وہ تین نظمیں جو بیٹی کے خوبصورت رشتے پر میں نے پڑھیں ۔۔۔ اور آپ کے گوش گزار کر ڈالیں ۔۔۔ ویسے تو ماں ، باپ، بیٹی، بیٹے، بھائی، بہں یہ سب ہی انمول تعلق ہیں ۔۔۔ دل سے جڑے ہوئے ۔۔۔

والسلام

Comments (1)

Older Posts »