! کیوں

کبھی کبھی ویران اسٹیشنوں پر رک کر

میں دیکھتا تھا، سوچتا تھا

لمحہ بہ لمحہ دور ہوتی ہوئی ٹرین میں کوئی تمثیل ہے

پر کیا ہے؟ یاد نہیں آتا تھا

اور جب یاد آیا

تو میں نے دیکھا کہ

پٹڑی کے ہاتھ خالی رہ گئے ہیں

سارے اسٹیشن سوالی رہ گئے ہیں

اب مجھے یاد آیا ہے

دور ہوتی ٹرین میں کیا تمثیل ہوتی ہے

مگر مجھے جاننا ہے کہ

میرا دل کیوں سوالی ہے؟

یہ رسم کس نے ڈالی ہے؟

پٹڑی کیوں خالی ہے؟

کیوں بیٹیاں مسافروں کی طرح ہوتی ہیں

کیوں بیٹیاں مسافروں کی طرح ہوتی ہیں؟ ۔۔۔

تو یہ تھیں وہ تین نظمیں جو بیٹی کے خوبصورت رشتے پر میں نے پڑھیں ۔۔۔ اور آپ کے گوش گزار کر ڈالیں ۔۔۔ ویسے تو ماں ، باپ، بیٹی، بیٹے، بھائی، بہں یہ سب ہی انمول تعلق ہیں ۔۔۔ دل سے جڑے ہوئے ۔۔۔

والسلام

Advertisements

1 تبصرہ »

  1. urdudaaN said

    محترمہ، كاش مجهے شاعرى آتى! تو ميں بهى آپكى خوبصورت اردو بياض ميں چند اَشعار كا اِضافہ كرتا۔

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: