غزل

اسے اپنے فردا کی فکر تھی
وہ جو میرا واقف ِ حال تھا
وہ جو اس کی صبح ِ عروج تھی
وہی میرا وقت ِ زوال تھا
وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی
میرے لب پر کوئی گلہ نہ تھا
اسے میری چپ نے رلا دیا
جسے گفتگو پر کمال تھا

(پروین شاکر)

Advertisements

11 تبصرے »

  1. تمہاری چپ۔۔۔۔۔۔

  2. RaY-ZoR said

    Mashallah yaar, aap ki urdu to bauhat zabardast hai…

  3. Asma Mirza said

    بہت ہی خوبصورت ہے یہ غزل ۔۔۔ پروین شاکر کی لگ یہ نہیں رہی، معذرت کے ساتھ !

  4. واہ کيا انوکھا خيال پروين شاکر نے باندھا ہے۔ ۔ بہت خوب

  5. Shirazi said

    Perveen Shakir rocks.

  6. hmm asma is ryght.

  7. Dinky Mind said

    @ Harris and Asma: If you think this is not Parveen Shakir’s poetry then it probably be mine…hahahaha..jk!

  8. اجمل said

    شاعری جس کی بھی ہے مجھے سمجھ میں نہیں آیا کہ ظالم رو کیوں پڑا ۔

  9. Pehlay Shair main
    "Faiday” ki jaga "Farda” aay ga
    It’s one of my Favourites
    anyways nice choice

  10. essjee said

    i loved it yrs back..i love it now…

  11. Asma Mirza said

    Thansk to fayyaz malik for the error!

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: