فلسفہِ زندگی

تم واقعی بدل گئے ہو۔ میرے کہنے کا خیال نہ کرنا۔ نصیحت کرنا، دنیا کا آسان تریں کام ہے۔ میں اب تک نصیحتیں کر رہا تھا۔ اگر میں تمھاری جگہ ہوتا تو پتہ نہیں کیا کرتا۔

فلسفی اسپنزا نے مثال دی تھی کی اگر کسی اینٹ کو ہوا میں پھینک دیا جائے اور متحرک اینٹ سے پوچھا جائے کہ کیا کر رہی ہو تو وہ یہی کہے گی کہ میں اپنی مرضی سے نہیں جا رہی ہوں۔ یہی حال انسانوں کا ہے۔ ہم جو کچھ بھی کر رہیں اور جس حال میں ہیں، اسکا سبب وہ واقعات اور حالات ہیں جن پر ہمارا قابو نہیں، جن کی رو ہمیں بہا لے جارہی ہے۔ ہم پر طرح طرح کے دباؤ ہیں، ہم مجبور ہین اور پھر زندگی کا کوئی خاص فارمولا تو ہوتا نہیں۔ کسی خوشبو کا ہلکا سا جھونکا، کسی رنگ کی جھلک، کوئی نغمہ ۔۔۔ یہ بڑے ظالم ہوسکتے ہیں، بھولی بسری یادیں دفعتاً تازہ ہو جاتی ہیں۔ کبھی یہ خعشگوار ہوتی ہیں، کبھی از حد کربناک۔

شفیق الرحمٰن کی کتاب “دجلہ“ سے ایک اقتباس

Advertisements

4 تبصرے »

  1. T M said

    bohot aala

  2. T M said

    zaban pai baat ati hai dil sai Hafeez
    dil main janai kahan sai ati hai

    🙂

    remember the poet of our national anthem, Hafeez Jalindhari 🙂

  3. yeah its called bandwagon syndrome ;).

    very nice excerpt. Double check it, is it really him.. i mean Shafiq-ur-Rehmaan (Shaitaan ka dost) :p

  4. SHUAIB said

    بہت خوب ۔ اچھا اقتباص ہے ۔

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: