ذرا سی بات

زندگی کے میلے میں، خواہشوں کے ریلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں
اس قدر جھمیلے میں
وقت کی روانی ہے، بخت کی گرانی ہے
سخت بے زمینی ہے، سخت لامکانی ہے
ہجر کے سمندر میں
تخت اور تختے کی ایک ہی کہانی ہے
تم کو جو سنانی ہے
بات گو ذرا سی ہے
بات عمر بھر کی ہے
عمر بھر کی باتیں کب دو گھڑی میں ہوتی ہیں
درد کے سمندر میں
اَن گِنت جزیرے ہیں، بے شمار موتی ہیں!
آنکھ کے دریچے میں تم نے جو سجایا تھا
بات اس دیئے کی ہے
بات اس گلے کی ہے
جو لہو کی خلوت میں چور بن کے آتا ہے
لفظ کی فصیلوں پہ ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے
زندگی سے لمبی ہے، بات رَت جگے کی ہے
راستے میں کیسے ہو ۔۔۔
بات تخلیئے کی ہے
تخلیئے کی باتوں میں گفتگو اضافی ہے
پیار کرنے والوں کو اِک نگاہ کافی ہے
ہو سکے تو سن جاؤ ایک دن اکیلے میں
تم سے کیا کہیں جاناں، اس قدر جھمیلے میں

۔۔ امجد اسلام امجد ۔۔

Advertisements

2 تبصرے »

  1. nice but read too many times… should be something new…

    one thing im gonna share with u …
    سفر تنہا نہیں کرتے
    سنو ایسا نہیں کرتے
    جنہیں شفاف رکھنا ہو
    انھیں میلا نہیں کرتے
    تیری آنکھیں اجازت دیں تو
    ہم کیا کیا نہیں کرتے
    سفر جسکا مقدر ہو
    اسے روکا نہیں کرتے
    جو مل کے خود سے کھو جاے
    اسے رسوا نہیں کرتے
    یہ اونچے پیڑ کیسے ہیں
    کہیں سایہ نہیں کرتے
    تیری آنکھوں کو پڑھتے ہیں
    تجھے دیکھا نہیں کرتے
    سحر سے پوچھ لو محسن
    ہم سویا نہیں کرتے

    i have tried to write in urdu… lets see what will happen??

  2. SHUAIB said

    بہت خوب ہے اسماء

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: