Archive for اکتوبر, 2005

کبھی

کبھی مجھ کو ساتھ لے کر، کبھی میرے ساتھ چل کے
وہ بدل گیا اچانک، میری زندگی بدل کے

ہوئے جس پہ مہرباں تم، کوئی خوش نصیب ہو گا
میری حسرتیں تو نکلیں میرے آنسوئوں میں ڈھل کے

تیری زلف و رخ کے قرباں، دلِ زار ڈھونڈتا ہے
وہی چمپئی اجالے، وہی سرمئی دھندلکے

کوئی پھول بن گیا ہے، کوئی چاند کوئی تارا
جو چراغ بجھ گیا ہے، تیری انجمن میں جل کے

میرے دوستو خدارا میرے ساتھ تم بھی ڈھونڈو
وہ یہیں کہیں چھپا ہے، میرے غم کا رخ بدل کے

تیری بے جھجھک ہنسی سے، نہ کسی کا دل ہو میلا
یہ نگر ہے آئینوں کا، یہاں سانس لے سنبھل کے

احسان دانش

Comments (3)

نہ کر

اُجڑے ہوئے لوگوں کے حوالے دیا نہ کر
جاتے ہوئے دروازوں پہ تا لے دیا نہ کر

آ جائے گی خوابوں میں تیرے بھیس بدل کر
خواہش کو کبھی دیس نکالے دیا نہ کر

ہم لوگ خزاءوں کا اثاثہ ہیں میری جاں
گرتے ہوئے پیڑوں کو سنبھا لے دیا نہ کر

یا ہم کو تو عادی نہ بنا تیرگیوں کا
یا اس طرح یکلخت اجا لے دیا نہ کر

تو کوئی سمندر ہے تو بپھرا بھی کبھی کر
دریا ہے تو لہروں کو اچھا لے دیا نہ کر

Comments (2)

نہیں کہ ملنے ملانے کا سلسلہ رکھنا

نہیں کہ ملنے ملانے کا سلسلہ رکھنا
کسی بھی سطح پہ کوئ تو رابطہ رکھنا

مدد کی تم سے توقع تو خیر کیا ہو گی
غریبِ شہرِ ستم ہوں، مرا پتہ رکھنا

مریں گے اور ہمارے سوا بھی تم پہ بہت
یہ جرم ہے تو پھر اس جرم کی سزا رکھنا

نءے سفر پہ روانہ ہوا ہے از سرِ نو
جب آءوں گا تو میرا نام بھی نیا رکھنا

حصارِ شوق اٹھانا ظفر ضرور مگر
کسی طرف سے نکلنے کا راستہ رکھنا

(ظفر اقبال)

Comments (6)

میرے خواب

آنکھوں سے کون میری، میرے خواب لے گیا
چشمِ صدف سے گوہرِ نایاب لے گیا

اس شہرِ خوش جمال کو کس کی لگی ہے آہ
کس دل زدہ کا گریہءِ خوں ناب لے گیا

کچھ نا خدا کے فیض سے ساحل بھی دور تھا
کچھ قسمتوں کے پھیر میں گرداب لے گیا

واں شہر ڈوبتے ہیں ، ادھر بحث کہ انہیں
خم لے گیا ہے یا خمِ محراب لے گیا

کچھ کھوئی کھوئی آنکھیں بھی موجوں کے ساتھ تھیں
شاید انہیں بہا کےکوئی خواب لے گیا

طوفانِ ابر باد میں سب گیت کھو گئے
جھونکا ہوا کا ہاتھ سے مضراب لے گیا

غیروں کی دشمنی نے نہ مارا، مگر ہمیں
اپنوں کے التفات کا زہراب لے گیا

اےآنکھ! اب تو خواب کی دنیا سے لوٹ آ
"مژگاں تو کھول ! شہر کو سیلاب لے گیا”

Comments (4)

آج کے نام ۔ فیض

آج کے نام ۔ فیض

آج کے نام

اور

آج کے غم کے نام

آج کا غم کے ہے زندگی کے بھرے گلستاں سے خفا

ذرد پتوں کا بن

ذرد پتوں کا بن جو مرا دیس ہے

درد کا انجمن جو مرا دیس ہے

کلرکوں کی افسردہ جانوں کے نام

کرم خوردہ دلوں اور زبانوں کے نام

پوسٹ مینوں کے نام

تانگے والوں کے نام

ریل بانوں کے نام

کارخانوں کے بھولے جیالوں کے نام

بادشاہِ جہاں، والیِ ما سوا، نائب للہ فی الارض، دھقاں کے نام

جس کی ڈوروں کو ظا لم ہںکا لے گئے

جس کی بیٹی کو ڈاکو اٹھالے گئے

ہاتھ بھر کھیت سے اک انگشت پتوار سے کاٹ لی ہے

دوسری مالئے کے بہانے سے سرکار نے کاٹ لی ہے

جس کے پگ زور والوں کے پاؤں تلے

دھجیاں ہو گئ ہے

ان دکھی ماؤں کے نام

رات میں جن کے بچے بلکتے ہیں اور

نیند کی مار کھائے ہوئے بازوؤ ں سے سنبھلتے نہیں

دکھ بتاتے نہیں

منتوں زریعوں سےبہلتے نہیں

ان حسیناؤں کے نام

جنکی آنکھوں کے گل

چلمنوں اور دریچوں کی بیلوں پہ بیکار کھل کھل کے

مرجھاگئے ہیں

اَن بیاہتاؤ ں کے نام

جنکے بدن

بے محبت ریا کار سیجوں پہ سج سج کے اکتاگئے ہیں

بیوائوں کے نام

کتاریوں اور گلیوں محلوں کے نام

جن کی ناپاک خاشا ک سے چاند راتوں

کو آ آ کہ کرتے ہیں اکثر وضو

جن کی سایوں میں کرتی ہے آہ و بکا

آنچلوں کی حنا

چوڑیوں کی کھنک

کاکلوں کی مہک

آرزو مند سینوں کی اپنے پسینےمیں جلنے کی بو

پڑھانے والوں کے نام

وہ جو اصحاب طبل و علم

کی دروں پر کتاب اور قلم

کا تقاضا لیئے ہاتھ پھیلائے

پہنچے، مگر لوٹ کر گھر نہ آئے

وہ معصوم جو بھولپن میں

وہاں اپنے ننھے چراغوں میں لاؤ کی لگن

لے کے پہنچے جہاں

بنٹ رہی تھی گھٹا ٹوپ، بے انت راتوں کے سائے

ان اسیروں کے نام

جن کے سینوں میں فردا کی شباتاب گوہر

جیل خانوں کی شوریدہ راتوں کی سر سر میں

جل جل کے انجم نماں ہو گئ ہیں

آنے والے دنوں کے سفیروں کے نام

وہ جو خوشبوئ گل کی طرح

اپنے پیغام پر خود فدا ہو گئے ہیں

(نا مکمل اخ تمام)

copied from this blog post

Comments (10)

کتنی مشکل زندگی ہے! کس قدر آساں ہے موت

آہ١ یہ دنیا، یہ ماتم خانہِ برنا و پیر

آدمی ہے کس طلسمِ دوش و فردا میں اسیر

کتنی مشکل زندگی ہے! کس قدر آساں ہے موت

گلشنِ ہستی میں مانند نسیمِ ارزاں ہے موت

زلزلے ہیں، بجلیاں ہیں، قحط ہیں، آلام ہیں

کیسی کیسی دخترانِ مادرِ ایام ہیں

کلبہِ افلاس میں، دولت کے کاشانے میں موت

دشت ودرمیں،شہر میں،گلشن میں،ویرانےمیں موت

موت ہے ہنگامہ آرا قلزمِ خاموش میں

ڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میں

ختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھی

ہیں پسِ نہ پردہِ گردوں ابھی دور اور بھی ہیں

-۔۔ علامہ اقبال ۔ بانگِ درا ۔۔

Comments (3)

ابليس کا فرمان اپنے فرزندوں کے نام

وہ فاقہ کش کہ موت سے ڈرتا نہيں ذرا

روحِ محمد اس کے بدن سے نکال دو

فکرِعرب کو دے کے فرنگي تخيّلات

اسلام کو حجازويمن سے نکال دو

افغانيوں کے غيرتِ ديں کا ہے يہ علاج

ملّا کو ان کے کوہ ودمن سے نکال دو

"علامہ اقبال”

Comments (4)

Older Posts »