نیکی اور بدی

یہ ایک عجیب بات ہے کہ نیکی میں جتنی اکتاہٹ ہے، بدی میں اتنی ہی رغبت ہے۔ عالِم، عالِم کو دیکھ کر، شاعر، شاعر کو دیکھ کر، سادھو، سادھو کو دیکھ کر جلتا ہے۔ ایک دوسرے کی صورت نہیں دیکھنا چاہتا۔

مگر جواری، جواری کو دیکھ کر، شرابی، شرابی کو دیکھ کر، چور، چور کو دیکھ کر ہمدردی جتاتا ہے اور مدد کرتا ہے۔ ایک پنڈت جی اگر اندھیرے میں ٹھوکر کھا کر گر پڑیں تو دوسرے پنڈت جی انہیں اٹھانے کے بجائے دو ٹھوکریں اور لگائیں گے تاکہ وہ پھر اٹھ ہی نہ سکیں۔

مگر ایک چور کو آفت میں دیکھ کر دوسرا چور اسکی آڑ لیتا ہے۔ بدی سے سب نفرت کرتے ہیں اسلئیے بدوں میں باہمی محبت ہوتی ہے۔ نیکی کی ساری دنیا تعریف کرتی ہے اسلیئے نیکوں میں مخالفت ہوتی ہے۔

۔۔ پریم چند کے افسانے سے ۔۔

Advertisements

8 تبصرے »

  1. WiseSabre said

    پہاڑ پر چڑھنا بہت مشکل اور اترنا بہت آسان ہوتا ہے

  2. اجمل said

    پریم چند نے ابلیس کے زیر اثر ماحول پر افسانہ بنایا ہے ۔
    میرے خیال میں ثاقب سعود صاحب کو پہاڑی علاقہ کا تجربہ کچھ زیادہ نہیں ہے ۔ پہاڑ پر چڑھنے کی نسبت اترنا زیادہ مشکل ہوتا ہے ۔

  3. اجمل صاحب ! اگر اگلی جانب سیڑھی لگی ھو تو !!!

  4. WiseSabre said

    میری بریکیں اچھی ہیں اس لیے مجھے اترنے میں کبھی مسلہ نہیں ہوا۔ابھی چند ماہ قبل میں نتھیاگلی سے گھوم کر آیا ہوں۔

  5. Ali Faraz said

    nathia gali sey break shoo kon sey dalway they …

  6. WiseSabre said

    @Ali faraz
    نتھیا گلی سیر کرنے گیا تھا بریک شو ڈلوانے نہیں

  7. Asma said

    نیکی اور بدی تو گئے گھاس چَرنے!

  8. Ali Faraz said

    اسماء ! یہ شوق کب سے ہوا !!! مستقبل میں دشواری ہوگی احتیاط کریں۔۔۔–>

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: