کتنی مشکل زندگی ہے! کس قدر آساں ہے موت

آہ١ یہ دنیا، یہ ماتم خانہِ برنا و پیر

آدمی ہے کس طلسمِ دوش و فردا میں اسیر

کتنی مشکل زندگی ہے! کس قدر آساں ہے موت

گلشنِ ہستی میں مانند نسیمِ ارزاں ہے موت

زلزلے ہیں، بجلیاں ہیں، قحط ہیں، آلام ہیں

کیسی کیسی دخترانِ مادرِ ایام ہیں

کلبہِ افلاس میں، دولت کے کاشانے میں موت

دشت ودرمیں،شہر میں،گلشن میں،ویرانےمیں موت

موت ہے ہنگامہ آرا قلزمِ خاموش میں

ڈوب جاتے ہیں سفینے موج کی آغوش میں

ختم ہو جائے گا لیکن امتحاں کا دور بھی

ہیں پسِ نہ پردہِ گردوں ابھی دور اور بھی ہیں

-۔۔ علامہ اقبال ۔ بانگِ درا ۔۔

Advertisements

3 تبصرے »

  1. $handanay said

    i wanna be a prt of ths 2, tell mua hw to gt de urdu software, wil ya?

  2. اس کو تو بتا دو۔۔۔ ھر بار ایک ہی سوال کرتا ھے۔

  3. PuRe said

    اپ اردوویب۔اورگ پر جاءیں تو وہاں سب کچھ ہی موجود ہے۔ آپ کو وہاں تمام معلومات مل جاءیں گی۔

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: