میرے خواب

آنکھوں سے کون میری، میرے خواب لے گیا
چشمِ صدف سے گوہرِ نایاب لے گیا

اس شہرِ خوش جمال کو کس کی لگی ہے آہ
کس دل زدہ کا گریہءِ خوں ناب لے گیا

کچھ نا خدا کے فیض سے ساحل بھی دور تھا
کچھ قسمتوں کے پھیر میں گرداب لے گیا

واں شہر ڈوبتے ہیں ، ادھر بحث کہ انہیں
خم لے گیا ہے یا خمِ محراب لے گیا

کچھ کھوئی کھوئی آنکھیں بھی موجوں کے ساتھ تھیں
شاید انہیں بہا کےکوئی خواب لے گیا

طوفانِ ابر باد میں سب گیت کھو گئے
جھونکا ہوا کا ہاتھ سے مضراب لے گیا

غیروں کی دشمنی نے نہ مارا، مگر ہمیں
اپنوں کے التفات کا زہراب لے گیا

اےآنکھ! اب تو خواب کی دنیا سے لوٹ آ
"مژگاں تو کھول ! شہر کو سیلاب لے گیا”

Advertisements

4 تبصرے »

  1. Asma said

    خوش آمدید ۔۔۔ بہت اچھا آغاز ہے۔

  2. Ayesha said

    :)!بہت خوب

  3. ھمتِ التجا نہیں باقی

    ضبط کا حوصلہ نہیں باقی

    اک تری دید چھن گئ مجھ سے

    ورنہ دنیا میں کیا نہیں باقی

    اپنے مشقِ ستم سے ہاتھ نہ کھیںچ

    میں نہیں یا وفا نہیں باقی

    ترے چشمِ عالم نواز کی خیر

    دل میں کوئئ گلہ نہیں باقی

    ہو چکا ختم عہدِ ہجر و وصال

    زندگی میں مزا نہیں باقی

    ۔ فیض

  4. PuRe said

    آپ سب کا بہت بہت شکریہ، مےری کوشش ہو گی کہ بیاض پر اچھے سے اچھا مواد پوسٹ کیا جأے۔

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: