نہ کر

اُجڑے ہوئے لوگوں کے حوالے دیا نہ کر
جاتے ہوئے دروازوں پہ تا لے دیا نہ کر

آ جائے گی خوابوں میں تیرے بھیس بدل کر
خواہش کو کبھی دیس نکالے دیا نہ کر

ہم لوگ خزاءوں کا اثاثہ ہیں میری جاں
گرتے ہوئے پیڑوں کو سنبھا لے دیا نہ کر

یا ہم کو تو عادی نہ بنا تیرگیوں کا
یا اس طرح یکلخت اجا لے دیا نہ کر

تو کوئی سمندر ہے تو بپھرا بھی کبھی کر
دریا ہے تو لہروں کو اچھا لے دیا نہ کر

Advertisements

2 تبصرے »

  1. اجمل said

    This post has been removed by the author.

  2. اجمل said

    فی البدیع عرض ہے
    متاءثرین کو دیکھ کے دل پہ چھریاں سی چل گئی ہیں
    تنہائی میں بیٹھ کے ظالم تھوڑا رو لینے تو دیا کر

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: