کبھی

کبھی مجھ کو ساتھ لے کر، کبھی میرے ساتھ چل کے
وہ بدل گیا اچانک، میری زندگی بدل کے

ہوئے جس پہ مہرباں تم، کوئی خوش نصیب ہو گا
میری حسرتیں تو نکلیں میرے آنسوئوں میں ڈھل کے

تیری زلف و رخ کے قرباں، دلِ زار ڈھونڈتا ہے
وہی چمپئی اجالے، وہی سرمئی دھندلکے

کوئی پھول بن گیا ہے، کوئی چاند کوئی تارا
جو چراغ بجھ گیا ہے، تیری انجمن میں جل کے

میرے دوستو خدارا میرے ساتھ تم بھی ڈھونڈو
وہ یہیں کہیں چھپا ہے، میرے غم کا رخ بدل کے

تیری بے جھجھک ہنسی سے، نہ کسی کا دل ہو میلا
یہ نگر ہے آئینوں کا، یہاں سانس لے سنبھل کے

احسان دانش

Advertisements

3 تبصرے »

  1. oyee hoee so many memories associated wid its first verse, tsk. hmmm i hate it cos it so good, fulfils its purpose by rekindling a deepy gloomy feeling inside.
    hmmmmm good one btw.

  2. PuRe said

    I think every person has memories associated with this first verse.. thanks anyways..

  3. Wardan said

    It is by nature to recall memories.Memories r u4getten in both cases even they r good r worst.
    any way good selction of verses.
    keep it up

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: