یومِ اقبال

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے، برسوں میں نمازی بن نہ سکا

کیا خوب امیرِ فیصل کو سنوسی نے پیغام دیا
تو نام و نسب کا حجازی ہے، پر دل کا حجازی بن نہ سکا

تَر آنکھیں تو ہو جاتی ہیں، پر کیا لذت اس رونے میں
جب خونِ جگر کی آمیزش سے اشک پیازی بن نہ سکا

اقبال بڑا اپدیشک ہے من باتوں میں موہ لیتا ہے
گفتار کا یہ غازی تو بنا، کردار کا غازی بن نہ سکا

۔ ۔ ۔ علامہ اقبال ۔۔ بانگِ درا ۔ ۔ ۔

Advertisements

2 تبصرے »

  1. T M said

    agar ho ishq ,tau hay kufr bhee musalmaneee
    na ho ,tau mard-e-musalmaan bhee kafir o zindeeq

  2. علامہ اقبال نے جو آئینہ ہمیں ستر سال پہلے دکھایا تھا اور جو ہمارے حال کی عکاسی اس وقت کی تھی اس میں ذرّہ برابر بھی فرق نہیں آیا۔
    ہم اتنے سست اور کاہل ہو چکے ہیں کہ ہمارا دل کرتا ہے کہ بنی اسرائیل کی طرح خدا ہمیں بھی بناں کسی محنت کے منّ و سلوی کھلاتا رہے۔ ہم قدرت کا یہ اصول بھول چکے ہیں کہ بغیر محنت کے دعا بھی قبول نہیں ہوتی ۔
    خدا ہمیں باعمل مسلمان بناۓ۔ آمین

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: