میں چھوٹا سا ایک بچہ ہوں

یہ آج اچانک کیا ہوا
ہر نظارہ کیوں بدل گیا
ہر سہارا کیوں بچھڑ گیا
وہ ایک لمحہ ایسا تھا کہ سب کچھ ہی تو بکھر گیا
اور وہ ایک لمحہ بس میری آنکھوں میں ہی ٹھہر گیا
میں کیسے خوف سے بھاگا تھا
میں دوڑا تھا کہ اپنی امی کی بانہوں میں، گود میں سمٹ جاؤں
اور ہر خوف سے، دکھ سے اور درد سے نکل جاؤں
پر گھر آیا تو نہ دَر تھا نہ دیوار تھی
نہ اس میں رہنے والا کوئی مکیں تھا باقی
ہاں بس حسرت و یاس و اداسی تھی باقی
میں خوف کے مارے دبکا کھڑا تھا اور
حیرت کا پتلا بنا ملبے میں اپنی امی کو تلاشتا تھا
اور چیخ چیخ کے پکار رہا تھا
امی جان، اب جان کہوں یا بے جان کہوں؟
امی جان کیا آپ ملبے کے اندر ہیں؟
امی مجھ کو ڈانٹ ہی دو
پر مجھ کو تم آواز تو دو
دیکھو مجھ کو ڈر لگتا ہے
اے کاش، کہ یہ سب خواب سا ہو
آنکھ کھولوں توگود ہو، بہنیں ہوں، اور آپکی پیاری باتیں ہوں
پر ایسا کچھ بھی ہو نہ سکا
اب اپنے ننھے ہاتھوں سے ملنے کو ہٹانا ہے
اور اپنی امی جان کو شاید خود سے ہی اٹھانا ہے
اور پھر اپنے ہی ہاتھوں سے انکو مٹی میں چھپانا ہے
دیکھو پیاری امی جان
میں چھوٹا سا ایک بچہ ہوں
اور کام کر رہا ہوں بڑے بڑے

۔۔ عامر حسن ۔۔

Advertisements

1 تبصرہ »

  1. اجمل said

    کیا کہیں اور کیا نہ کہیں ۔ ہے حشر کا سا سماں

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: