کراچي سے ہيتھرو تک

يہ صورت اس وقت پيدا ہوتي ہے جب چھوٹي کار تيز اور بڑي کار کو آھستہ چلايا جائے بخش کے پاس بڑي کار ہے۔ مگر نہ وہ اسے آہستہ چلاتے ہيں اور نہ تيز چلاتے ہيں بس يہ ہے کہ جب بريک پر پاؤں رکھنا ہو بخش صاحب ايکسيليٹر پر پاؤں رکھ ديتے ہيں اور جب پاؤں ايکسيليٹر پر ھونا چائيے اس وقت بخش صاحب کا پاؤں بريک پر ہوتا ہے۔

تاہم بخش صاحب کا کمال فن يہ ہے کہ ان کا آج تک چالان نہيں ہوا جيسے آج تک ہمارے ملک کے صاحبان اقتدار کا کبھي چالان نہيں ہو سکا جو ملک اسي طرح چلاتے ہيں۔ جس طرح بخش لائل پوري کار چلاتے ہيں۔لندن کي پراني طرز کي سياہ عمارتوں اور تنگ گلي کوچوں سے گزرتے ہوئے اب ھم ٣٣٧ ميٹر روڈ ويٹ بانسلو کے سامنے کھڑے تھے ۔يہ گھر مجھے بہت عزيز ھے ۔ ميں نے گذشتہ برس بھي اس گھر میں دو ہفتے گذارے تھے ۔ سويٹي بيٹي، فرحانہ بيٹي ، شاہد ، شفقت ، بھابي شميم اور مور اوور کے طور پر بخش لائل پوري کي پر خلوص مہمانداري کے طفيل مجھے اپنے گھر سے ہزاروں ميل دور يہ گھر اپنا سا لگتا ہے۔

جاری ہے ۔۔۔ یہ میں کہہ رہی ہوں قاسمی صاحب نہیں-اسماء

۔۔۔ عطاء الحق قاسمي ۔۔ گوروں کے ديس ميں ۔۔۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: