بھول ہوئی ہے

برگشتہء یزدان سے کچھ بھول ہوئی ہے
بھٹکے ہوۓ انسان سے کچھ بھول ہوئی ہے

تاحدِ نظر شعلے ہی شعلے ہیں چمن ميں
پھولوں کے نگہبان سے کچھ بھول ہوئی ہے

جس عہد میں لٹ جاۓ فقیروں کی کمائی
اس عہد کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے

حوروں کی طلب اور مہ و ساغر سے ہے نفرت
زاہد تیرے عرفان سے کچھ بھول ہوئی ہے

ساغر صدیقی

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: