يہ جو لمحے گلاب جيسے ہيں

يہ جو لمحے گلاب جيسے ہيں
آ کہ تجھ بن عذاب جيسے ہيں

تو نہيں ہے تو ايسا لگتا ہے
سارے منظر سراب جيسے ہيں

يہ جو سپنے ادھر نہيں آتے
ميرے خط کے جواب جيسے ہيں

پاس جائيں تو ہم پہ کھلتا ہے
لوگ سارے سراب جيسے ہيں

گيت ناہيد کيا سناؤں ميں
سٔر سبھي اضطراب جيسے ہيں

ناہِيد ورک

Advertisements

1 تبصرہ »

  1. urdudaaN said

    عزاب میں زے نہیں، بلکہ ذال ھونا چاھئے تھا یعنی عذاب صحیح ھوتا۔

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: