Archive for جنوری, 2006

آنکھ سے دور سہی

آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا

جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا

خواب سا دیکھا ہے تعبیر نہ جانے کیا ہو

زندگی بھر کوئی اب خواب ہی دوہرائے گا

ٹوٹ جائیں نہ کہیں پیار کے نازک رشتے

وقت ظالم ہے ہر اک موڑ پہ ٹکرائے گا

عشق کو جرم سمجھتے ہیں زمانے والے

جو یہاں پیار کرے گا وہ سزا پائے گا

۔۔۔ عبید اللہ علیم ۔۔۔ ١٩٦٤ ۔۔۔

Advertisements

تبصرہ کریں

کوئی پیاس کہیں رہ جاتی ہے

کوئی لاکھ سمندر پی جائے

کوئی لاکھ ستارے چھو آئے

کوئی پیاس کہیں رہ جاتی ہے

کوئی آس کہیں رہ جاتی ہے

کوئی زیست کا ساغر بھرتا ہے

کوئی پھِر خالی ہو جاتا ہے

کوئی لمحے بھر کو آتا ہے

کوئی پل بھر میں کھو جاتا ہے

کوئی پیاس کہیں رہ جاتی ہے

کوئی آس کہیں رہ جاتی ہے

۔۔۔ عبیداللہ علیم ۔۔۔ ١٩٩٠ ۔۔۔

تبصرہ کریں

خواہش ہو اگر تيری

خواہش ہو اگر تيری کہ ہو کام فٹا فٹ
اے دوست ميری ميز پر رکھ دام فٹا فٹ

دولت بھي عجب چيز ہے اس دور ميں بھيا
محبوب بھي آتا ہے لبِ بام فٹا فٹ

جو يار فرمائش پوری نہيں کرتے
وہ عشق ميں ہو جاتے ہيں ناکام فٹا فٹ

گفتار کے غازي ہو تو بن سکتے ہو ليڈر
تقريروں سے پبلک کو کرو رام فٹا فٹ

کھانے ميں نمک کم ہو کہ ہو مرچ زيادہ
ميں گھر ميں مچا ديتا ہوں کہرام فٹا فٹ

عيد آئي کہ آئي ہے مري شامتِ اعمال
ہر شخص طلب کرتا ہے انعام فٹا فٹ

تنقيد تو کرتے ہو ضياء يہ بھي سمجھ لو
ہو جائو گے تم شہر ميں بدنام فٹا فٹ

ضياء الحق قاسمي

Comments (3)

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گذری ھے رقم کرتے رہیں گے

اسباب غم عشق بہم کرتے رہیں گے
ویرانی دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے

ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑھے گی
ہاں اہل ستم مشق ستم کرتے رہیں گے

منظور یہ تلخی یہ ستم ہم کو گوارہ
دم ہے تو مداواء علم کرتے رہیں گے

باقی ہےلہو دل میں تو ہر اشک سے پیدا
رنگ لب و رخسار صنم کرتے رہیں گے

اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

فيض احمد فيض

Comments (1)

تيرگي ہے

تيرگي ہے کہ امنڈتي ہي چلي آتي ہے
شب کي رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو جيسے

چل رہی ہے کچھ اس انداز سے نبضِ ہستی
دونوں عالم کا نشہ ٹوٹ رہا ہو جيسے

رات کا گرم لہو اور بھي بَہ جانے دو
يہی تاريکی تو ہے غازہِ رخسارِ سحر

صبح ہونے ہی کو ہے اور دل بيتاب ٹہر
ابھی زنجير چھٹکتی ہے پسِ پردہ ساز

مطلق الحکم ہے شيرازہ اسباب ابھي
ساغر ناب ميں آنسو بھي ڈھلک جاتے ہيں

لغزش پا ميں ہے پابندی آداز ابھي
اپنے ديوانوں کو ديوانہ تو بن لينے دو

اپنے ميخانوں کو ميخانہ تو بن لينے دو
جلد يہ سطوت اسباب بھي اٹھ جائے گی

يہ گرانباري آداب بھي اٹھ جائے گی
خواہ زنجير چھٹکتی ہي، چھٹکتی ہی رہے

فيض احمد فيض

تبصرہ کریں

چڑا اور چڑيا

ايک تھي چڑيا، ايک تھا چڑا، چڑيا لائي دال کا دانا، چڑا لايا چاول کا دانا، اس سے کچھڑي پکائي، دونوں نے پيٹ بھر کر کھائي، آپس ميں اتفاق ہو تو ايک ايک دانے کي کچھڑي بھي بہت ہوتي ہے۔

چڑا بيٹھا اونگھ رہا تھا کہ اس کے دل ميں وسوسہ آيا کہ چاول کا دانا بڑا ہوتا ہے، دال کا دانا چھوٹا ہوتا ہے۔ پس دوسرے روز کچھڑي پکي تو چڑے نے کہا اس میں چھپن حصے مجھے دے، چواليس حصے تو لے، اے باگھوان پسند کر يا نا پسند کر ۔ حقائق سے آنکھ مت بند کر ، چڑے نے اپني چونچ ميں سے چند نکات بھي نکالے، اور بي بي نے آگے ڈالے۔ بي بي حيران ہوئي بلکہ رو رو کر ہلکان ہوئي کہ اس کے ساتھ تو ميرا جنم کا ساتھ تھا ليکن کيا کر سکتي تھي۔

دوسرے دن پھر چڑيا دال کا دانا لائي اور چڑا چاول کا دانا لايا۔ دونوں نے الگ الگ ہنڈيا چڑھائي ، کچھڑي پکائي ، کيا ديکھتے ہیں کہ دو ہي دانے ہيں، چڑے نے چاول کا دانا کھايا، چڑيا نے دال کا دانا اٹھايا ۔ چڑے کو خالي چاول سے پيچش ہوگئي چڑيا کو خالي دال سے قبض ہو گئي۔ دونوں ايک حکيم کے پاس گئے جو ايک بِلا تھا، اس نے دونوں کے سروں پر شفقت کا ہاتھ پھيرا اور پھيرتا ہي چلا گيا۔

ديکھا تو تھے دو مشت پر

يہ کہاني بہت پرانے زمانے کي ہے۔ آج کل تو چاول ايکسپورٹ ہو جاتا ہے اور دال مہنگي ہے۔ اتني کہ وہ لڑکياں جو مولوي اسماعيل ميرٹھي کے زمانے ميں دال بگھارا کرتي تھيں۔ آج کل فقط شيخي بگھارتي ہيں۔

ابن انشاء

Comments (3)

برسوں کے بعد

برسوں کے بعد ديکھا شخص دلربا سا
اب ذہن ميں نہيں ہے پر نام تھا بھلا سا

ابرو کِھچھے کِھچھے سے آنکھيں جھکي جھکي سي
باتيں رکي رکي سي، لہجہ تھکا تھکا سا

الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر ميں
بن جائے جنگلوں ميں جس طرح راستہ

خوابوں ميں خواب اس کے، يادوں ميں ياد اس کي
نيندوں ميں گھل گيا ہو جيسے کہ رتجگا سا

پہلے بھي لوگ آئے کتنے ہي زندگي ميں
وہ ہر طرح سے ليکن اوروں سے تھا جدا سا

اگلي محبتوں نے وہ نامرادياں ديں
تازہ رفاقتوں سے دل تھا ڈرا ڈرا سا

احمد فراز

Comments (5)

Older Posts »