آج ميں کل کا دخل

کھيل دھوپ چھاؤں کا
بادلوں ہواؤں کا
صحنِ صبح نو ميں ہے
وہ قديم راستے
شہر وہ خيال کے
حسن جن کا دور سے
تھا سفر ميں يار سا
ان کي اک جھلک بھي ہے
سامنے کي ديد ميں
اس نويدِ عيد ميں
آج کے قرار ميں
آنے والے دور کے
خوش نما غبار ميں
ان کي اک مہک بھي ہے
چاہتوں کے سال ميں
حجلہء وصال سي
آج کي بہار میں

منير نيازي

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: