ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے

ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گذری ھے رقم کرتے رہیں گے

اسباب غم عشق بہم کرتے رہیں گے
ویرانی دوراں پہ کرم کرتے رہیں گے

ہاں تلخی ایام ابھی اور بڑھے گی
ہاں اہل ستم مشق ستم کرتے رہیں گے

منظور یہ تلخی یہ ستم ہم کو گوارہ
دم ہے تو مداواء علم کرتے رہیں گے

باقی ہےلہو دل میں تو ہر اشک سے پیدا
رنگ لب و رخسار صنم کرتے رہیں گے

اک طرز تغافل ہے سو وہ ان کو مبارک
اک عرض تمنا ہے سو ہم کرتے رہیں گے

فيض احمد فيض

Advertisements

1 تبصرہ »

  1. Asma said

    بہت ہی خوبصورت نظم ہے یہ اور شکر ہے خیال تو آیا پوسٹ کرنے کا ۔۔۔۔ نام لکھا تو ہے ۔۔۔ دو آدھ دن پہلے ہی اپڈیٹ کیا تھا۔

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: