آنکھ سے دور سہی

آنکھ سے دور سہی دل سے کہاں جائے گا

جانے والے تو ہمیں یاد بہت آئے گا

خواب سا دیکھا ہے تعبیر نہ جانے کیا ہو

زندگی بھر کوئی اب خواب ہی دوہرائے گا

ٹوٹ جائیں نہ کہیں پیار کے نازک رشتے

وقت ظالم ہے ہر اک موڑ پہ ٹکرائے گا

عشق کو جرم سمجھتے ہیں زمانے والے

جو یہاں پیار کرے گا وہ سزا پائے گا

۔۔۔ عبید اللہ علیم ۔۔۔ ١٩٦٤ ۔۔۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: