Archive for فروری, 2006

ختم الرسل…

وہ دانائے سبل ، ختم الرسل ، مولائے کل جس نے
غبار راہ کو بخشا فروغ وادي سينا
نگاہ عشق و مستي ميں وہي اول ، وہي آخر
وہي قرآں ، وہي فرقاں ، وہي يسيں ، وہي طہ

by Dr. Allama Muhammad Iqbal

Comments (3)

دونوں جہاں

دونوں جہاں تيري محبت ميں ہار کے
وہ جا رہا ہے کوئي شب غم گزار کر

ويراں ہے ميکدہ، گم و ساغر اداس ہيں
تم کيا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے

اک فرصت گناہ ملئ، وہ بھي چار دن
ديکھے ہيں ہم نے حوصلے پروردگار کے

دنيا نے تيري ياد سے بيگانہ کرديا
تجھ سے بھي دلفريب ہيں غم روزگار کے

بھولے سے مسکرا تو ديے تھے وہ آج فيض
مت پوچھ ولولے دل کا ناکردہ کار کے

فيض احمد فيض

Comments (3)

تيرگي ہے

تيرگي ہے کہ امنڈتي ہي چلي آتي ہے
شب کي رگ رگ سے لہو پھوٹ رہا ہو جيسے

چل رہي ہے کچھ اس انداز سے نبض ہستي
دونوں عالم کا نشہ ٹوٹ رہا ہو جيسے

رات کا گرم لہو اور بھي بہ جانے دو
يہي تاريکي تو ہے غازہ رخسار سحر

صبح ہونے ہي کو ہے ار دل بيتاب ٹہر
ابھي زنجير چھٹکتي ہے پس پردہ ساز

مطلق الحکم ہے شيرازہ اسباب ابھي
ساغر ناب ميں آنسو بھي ڈھلک جاتے ہيں

لغزش پا ميں ہے پابندي آداز ابھي
اپنے ديوانوں کو ديوانہ تو بن لينے دو

اپنے ميخانوں کو ميخانہ تو بن لينے دو
جلد يہ سطوت اسباب بھي اٹھ جائے گي

يہ گرانباري آداب بھي اٹھ جائے گي
خواہ زنجير چھٹکتي ہي، چھٹکتي ہي رہے

فيض احمد فيض

تبصرہ کریں

کچھوا اور خرگوش

ايک تھا کچھوا، ايک تھا خرگوش، دونوں نے آپس ميں دوڑ کي شرط لگائي۔ کوئي کچھوے سے پوچھے کہ تو نے کيوں لگائي؟ کيا سوچ کر لگائي؟ دنيا میں احمقوں کي کمي نہیں۔ ايک ڈھونڈو، ہزار ملتے ہیں ۔ طے يہ ہوا کہ دونوں میں سے جو نيم کے ٹيلے تک پہلے پہنچے وہ ميري سمجھا جائے۔ اسے اختيار ہے کہ ہارنے والے کے کان کاٹ لے۔

دوڑ شروع ہوئي۔ خرگوش تو يہ جا وہ جا۔ پلک جھپکنے ميں خاصي دور نکل گيا۔ مياں کچھوے وضع داري کي چال چلتے منزل کي طرف رواں ہوئے، تھوڑي دور پہنچے تو سوچا بہت چل لئے اب آرام بھي کرنا چاہئيے۔ ايک درخت کے نيچے بيٹھ کر اپنے شاندار ماضي کي يادوں میں کھوگئے جب اس دنيا میں کچھوے راج کيا کرتے تھے۔ سائنس اور فنون لطيفہ ميں بھي ان کا بڑا نام تھا۔ يونہي سوچتے ميں آنکھ لگ گئي۔ کيا ديکھتے ہيں کہ خود تو تخت شاہي پر بيٹھے ہيں۔ باقي زميني مخلوق، شير چيتے، خرگوش آدمي وغيرہ ہاتھ باندھے کھڑے ہيں يا فرشي سلام کر رہے ہيں۔ آنکھ کھلي تو ابھي سستي باقي تھي۔ بولے ابھي کيا جلدي ہے ؟

اس خرگوش کے بچے کي کيا اوقات ہے ميں بھي کتنے عظيم ورثے کا مالک ہوں؟ واہ بھئي واہ ميرے کيا کہنے۔

جانے کتنا زمانہ سوئے رہے تھے جب جي بھر کے سستالئے تو پھر ٹيلے کي طرف رواں ہوئے ، وہاں خرگوش کو نہ پايا بہت خوش ہوئے۔ اپنے کو داد دي کہ واہ رے مستعدي ميں پہلے پہنچ گيا۔ بھلا کوئي ميرا مقابلہ کر سکتا ہے؟

اتنے ميں ان کي نظر خرگوش کے ايک پلے پر پڑي جو ٹيلے کے دامن ميں کھيل رہا تھا۔ کچھوے نے کہا اے برخوردار تو خرگوش خاں کو جانتا ہے؟

خرگوش کے بچے نے کہا جي ہاں جانتا ہوں ميرے ابا حضور تھے معلوم ہوتا ہے ، آپ ہيں وہ کچھوے مياں جنہوں نے ابا جان سے شرط لگائي تھي ۔ وہ تو پانچ منٹ ميں يہاں پہنچ گئے تھے۔

اس کے بعد مدتوں آپ کا انتظار کرتے رہے۔ آخر انتقال کرگئے۔ جاتے ہوئے وصيت کر گئے تھے کہ کچھوے مياں آئیں تو ان کے کان کاٹ لينا۔

اب لائيے ادھر کان۔

کچھوے نے فورا اپنے کان اپنے سري خول کے اندر کر لي۔ آج تک چھپائے پھرتا ہے۔

ابن انشاء

تبصرہ کریں