Archive for مارچ, 2006

پاني پت

پاني پت ميں اس وقت تک صرف ايک لڑائي ہوئي تھي، پاني پت والوں کا اصرار تھا کہ ايک اور ہوني چاھئيے۔ چناچہ اکبر نے پہلي فرصت ميں بہيروبنگاہ کے ساتھ ادھر کا رخ کيا، ادھر سے ہيموں بقال لشکر جرار لے کر آيا، اس کے ساتھ توپيں بھي تھيں اور ہاتھي بھي تھے، ايک سے ايک سفيد، گھسمان کا رن پڑا، ہيموں کي جمعيت زيادہ تھي، ليکن اکبري لشکر نے تابڑ توڑ حملے کرکے کھلبلي مچادي، بعض ہمدردوں نے اس کے جدي وطن سے پيغام بھجوايا کہ تم اور ہيموں دونوں يہاں تاشقند آئو، صلح کرائے ديتے ہيں، ليکن اکبر نہ مانا، ہيموں ايک ہاتھي کے ہودے ميں بيٹھا روپے آنے پائي کاحساب لکھ رہاتھا کہ اس لڑائي کا مال غنيمت فروخت کرکے کس کاروبار ميں پيسہ لگايا جائے، ناگہاں ايک تير قضا کا پيغام لے کر اس کي آنکھ ميں آنلگا اور وہ بے سدھ ہو کر گر گيا، بقال کو ہم تاريخ کا پہلا موشے دايان کہہ سکتے ہيں۔

ابن انشاء

Comments (3)

جی جان سے اے ارضِ وطن مان گئے ہم

جی جان سے اے ارضِ وطن مان گئے ہم

جب تو نے پکارا ترے قربان گئے ہم

جو دوست ہو اس پہ محبت کی نظر کی

دشمن پہ ترے صورتِ طوفان گئے ہم

ہم ایسے وفادار و پرستار ہیں تیرے

جو تو نے کہا تیرا کہا مان گئے ہم

مرہم ہیں ترے ہونٹ مسیحا ہے تری زُلف
ہم موجہِ گل تھے کہ پریشان گئے ہم

افسوں نہ کوئی چلنے دیا حیلہ گراں کا

ہر شکل عدو کی ترے پہچان گئے ہم

خاکِ شہدائ نے ترے پرچم کو دعا دی

لہرا کے جو پرچم نے کہا جان گئے ہم

۔۔۔ عبیداللہ علیم ۔۔۔ ١٩٦٥ ۔۔۔

تبصرہ کریں

ہم دیکھیں گے

ہم دیکھیں گے، ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوح ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پائوں تلے
یہ دھرتی دھڑدھڑدھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل سفا مردود حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو ناظر بھی ہے منظر بھی
ااٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو

Comments (1)

پہاڑ

ان پہاڑوں کو ديکھوں ،بعضوں کي چوٹياں آسمان سے باتيں کرتي ہيں۔ کيا باتيں کرتي ہيں؟ يہ کسي نے نہيں سنا۔پہاڑوں کے اندر کيا ہوتا ہے؟ معلوم نہيں ۔بعض اوقات پہاڑ کو کھودو تو اندر سے چوہا نکلتا ہے۔بعض اوقات چوہا بھي نہيں نکلتا ۔جس پہاڑ ميں سے چوہا نکلے اسے غنيمت جاننا چاہئيے۔

جو لوگ پہاڑوں پر رہتے ہيں ان کو گرم کپڑے تو ضرور بنوائے پڑتے ہيں ليکن ويسے کئي فائدے بھي ہيں ۔پہاڑوں پر برف جمي ہے جو ان لوگوں کو مفت مل جاتي ہے۔جتنا جي چاہے پاني ميں ڈال کر پيئيں ۔برف ميں رہنے والوں کو ريفريجريٹر بھي نہيں خريدنے پڑتے پيسے بچتے ہيں۔

پہاڑ پتھروں کےبنے ہوتے ہيں۔ پتھر بہت سخت ہوتے ہيں ۔جس طرح محبوبوں کے دل سخت ہوتے ہيں ۔فرق يہ ہے کھ کبھي کبھي پتھر موم بھي ہو جاتے ہيں۔جو پہاڑ بہت بلندي دکھاتے ہيں ان کو کاٹتے ہيں اور کاٹ کر ان کے پتھر سڑکوں پر بچھاتے ہيں لوگ انہيں جوتوں سے پامال کرتے گزرتے ہيں ۔ جو پتھر زيادہ سختي دکھائيں وھ چکي ميں پستے ہيں ۔ سرمہ بن جاتے ہيں ۔سارا پتھر پن بھول جاتے ہيں۔

ابن انشاء

Comments (1)

ايک سبق گرامر کا

لفظوں کے الٹ پھر کے علم کو گرامر کہتے ہيں، لفظوں کا مجموعہ جملہ کہلاتا ہے، يہ مجموعہ زيادہ بڑا اور لمبا ہوجئاے تو اسے مير جملہ کہتے ہيں۔

اب چونکہ جملے بازي اور فقرے بازي لوگ اچھي نظر سے نہيں ديکھتے اس لئے گرامر کي طرف لوگوں کي توجہ کم ہوگئي ہے۔

شاعري کي گرامر کو عروض کہتے ہيں۔

پرانے لوگ عروض کے بغير شاعري کرتے تھے،، آجکل شاعرکے سامنے عروض کا نام ليجئے تو پوچھتا ہے وہ کيا چيز ہے، ہم نے ايک شاعر کے سامنے ضرافت کا نام ليا۔۔۔۔بولے خرافات؟مجھےپسند نہيں، بس غزل سنئيے اور جائيے۔

عروض ميں بہريں ہوتي ہيں جن ميں بعض بہت گہي ہوتي ہيں، نو مشق ان ميں اکثر ڈوب جاتے ہيں اسي لئے احتياط پسند لوگ اور عروض کے پاس نہيں جاتے، عمر بھر لکھتے رہتے ہيں۔

ابن انشاء

Comments (1)

اب تک وہی خواب ہیں وہی میں

اب تک وہی خواب ہیں وہی میں
وہی میرے گلاب ہیں وہی میں

آنکھوں میں وہی ستارہ آنکھیں
وہی دل میں گلاب ہیں وہی میں

یہ جسم کہ جاں کی تشنگی ہے
وہی تازہ سراب ہیں وہی میں

زندہ ہوں ابھی تو مات کیسی
وہی جاں کے عذاب ہیں وہی میں

کہتی ہے زباں خموشیوں کی
وہی درد کے باب ہیں وہی میں

پڑھتے ہوئے جن کو عمر گزری
وہی چہرے کتاب ہیں وہی میں

لکھتے ہوئے جن کو جان جائے
وہی حرف نصاب ہیں وہی میں

وہی رنجشیں اپنے دوستوں سے
وہی دل کے حساب ہیں وہی میں

آتے ہیں مگر نہیں برستے
وہی تشنہ سحاب ہیں وہی میں

دنیا کے سوال اور دنیا
وہی میرے جواب ہیں وہی میں

۔۔۔ عبید اللہ علیم ۔۔۔ ١٩٧٣ ۔۔۔

تبصرہ کریں