Archive for اپریل, 2006

تجھے مجھ سے مجھ کو تجھ سے جو بہت ہی پیار ہوتا

تجھے مجھ سے مجھ کو تجھ سے جو بہت ہی پیار ہوتا

نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا

تیرا ہر مرض الجھتا مری جانِ ناتواں سے

جو تجھے زکام ہوتا تو مجھے بخار ہوتا

جو میں تجھ کو یاد کرتا تجھے چھینکنا بھی پڑتا

مرے ساتھ بھی یقیناً یہی بار بار ہوتا

کسی چوک میں لگاتے کوئی چوڑیوں کا کھوکھا

ترے شہر میں بھی اپنا کوئی کاروبار ہوتا

غم و رنجِ عاشقانہ نہیں کیلکولیٹرانہ

اسے میں شمار کرتا جو نہ بے شمار ہوتا

وہاں زیرِ بحث آتے خط و خال و خائے خوباں

غمِ عشق پر جو انور کوئی سیمینار ہوتا

۔۔۔ انور مسعود ۔۔۔

Comments (1)

بول کے لب آزاد ہیں تیرے

بول کے لب آزاد ہیں تیرے

بول، زباں اب تک تیری ہے

تیرا ستواں جسم ہے تیرا

بول کہ جاں اب تک تیری ہے

دیکھ کے آہن گر کی دکاں میں

تند ہے شعل، سرخ ہے آہن

کھلنے لگے قفلوں کے دہانے

پھیلا ہر اک زنجیر کا دامن

بول، یہ تھوڑا وقت بہت ہے

جسم و زباں کی موت سے پہلے

بول کہ سچ زندہ ہے اب تک

بول، جو کچھ کہنا ہے کہہ لے!

۔۔۔ فیض احمد فیض ۔۔۔

تبصرہ کریں

آج جانے کی ضد نہ کرو

آج جانے کی ضد نہ کرو

یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو

ہائے مر جائیں گے ہم تو لٹ جائیں گے

ایسی باتیں کیا نہ کرو

آج جانے کی ضد نہ کرو

یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو

تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکين تمہیں

جان جاتی جب اٹھ کہ جاتے ہو تم

تم کو اپنی قسم جان جاں

بات اتنی میری مان لو

آج جانے کی ضد نہ کرو

یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو

وقت کی قید میں زندگی ہے مگر

چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں

ان کو کھو کر میری جان جاں

عمر بھر نہ ترستے رہو

آج جانے کی ضد نہ کرو

یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو

کتنا ماسوم و رنگیں ہے یہ سما

حسن اور عشق کی آج معراج ہے

کل کی کس کو خبر جان جاں

روک لو آج کی رات کو

آج جانے کی ضد نہ کرو

یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو

Comments (3)

غزل

جب بھي مجھے آمد ہوتي ہے
بيگم ميري بجنگ آمد ہوتي ہے

پتھر دلوں کو پل ميں موم کرے
ہاۓ کيا چيز خوشامد ہوتي ہے

محبت نہيں پابند کسي اصول کي
يہ بن کسٹم کے برآمد ہوتي ہے

بڑھاپے کي نشاني ياد رکھنا
بيوي گھرميں خاوند ہوتي ہے

ہوجاؤکمر بستہ واہ واہ کرنے والو
محفل ميں شاعر کي آمد ہوتي ہے

ميراپاکستان

تبصرہ کریں