آج جانے کی ضد نہ کرو

آج جانے کی ضد نہ کرو

یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو

ہائے مر جائیں گے ہم تو لٹ جائیں گے

ایسی باتیں کیا نہ کرو

آج جانے کی ضد نہ کرو

یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو

تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکين تمہیں

جان جاتی جب اٹھ کہ جاتے ہو تم

تم کو اپنی قسم جان جاں

بات اتنی میری مان لو

آج جانے کی ضد نہ کرو

یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو

وقت کی قید میں زندگی ہے مگر

چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں

ان کو کھو کر میری جان جاں

عمر بھر نہ ترستے رہو

آج جانے کی ضد نہ کرو

یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو

کتنا ماسوم و رنگیں ہے یہ سما

حسن اور عشق کی آج معراج ہے

کل کی کس کو خبر جان جاں

روک لو آج کی رات کو

آج جانے کی ضد نہ کرو

یوں ہی پہلو میں بیٹھے رہو

Advertisements

3 تبصرے »

  1. asma said

    assalam o alaykum w.w.

    Beautiful piece … Asha bhonslay has sung it wll but that is nothing what habib wali Muhammad sang … originally !

  2. sanai said

    does anyone know whose poetry is this … i mean who has written it ??

  3. […] Its lyrics reminds me of Aaj Janay ki Zid na karo […]

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: