تجھے مجھ سے مجھ کو تجھ سے جو بہت ہی پیار ہوتا

تجھے مجھ سے مجھ کو تجھ سے جو بہت ہی پیار ہوتا

نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا

تیرا ہر مرض الجھتا مری جانِ ناتواں سے

جو تجھے زکام ہوتا تو مجھے بخار ہوتا

جو میں تجھ کو یاد کرتا تجھے چھینکنا بھی پڑتا

مرے ساتھ بھی یقیناً یہی بار بار ہوتا

کسی چوک میں لگاتے کوئی چوڑیوں کا کھوکھا

ترے شہر میں بھی اپنا کوئی کاروبار ہوتا

غم و رنجِ عاشقانہ نہیں کیلکولیٹرانہ

اسے میں شمار کرتا جو نہ بے شمار ہوتا

وہاں زیرِ بحث آتے خط و خال و خائے خوباں

غمِ عشق پر جو انور کوئی سیمینار ہوتا

۔۔۔ انور مسعود ۔۔۔

Advertisements

1 تبصرہ »

  1. Hahahahaha…

RSS feed for comments on this post · TrackBack URI

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: